بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 23/08/2026

دارالافتاء

 

نقد سونا خرید کر قسطوں پر منافع کے ساتھ بیچنا


سوال

 کیا سونا نقد خرید کر قسطوں پر منافع کے ساتھ بیچنا شرعا جائز ہے؟

جواب

            واضح رہے کہ جن دو چیزوں کی جنس مختلف ہوتو ان کی آپس میں خرید و فروخت کمی بیشی یا ادھار کے ساتھ کرنا شرعاً جائز ہے ، نیز قسط وار بیع میں زیادہ قیمت کے عوض اشیا فروخت کرنے میں بھی شرعاً کوئی مضائقہ نہیں۔

            لہٰذا  صورت مسؤلہ میں سونے کو نقداً خرید کر منافع کے ساتھ قسط وار بیچنا شرعاً جائز ہےبشرطیکہ سونے پر مجلس عقد میں ہی قبضہ کیا جائے اور اس شخص کے علاوہ کسی اور پر فروخت کیاجائے جس سے نقداً خریدا گیا ہے۔

 

قال وإذا عدم الوصفان الجنس والمعنى المضموم إليه حل التفاضل والنساء لعدم العلة المحرمة. (الهداية، كتاب البيوع، باب الربو، ج:5،ص:177)

لأن للأجل شبها بالمبيع ألا يرى أنه يزاد في الثمن لأجل الأجل. (الهداية، كتاب البيوع، باب المرابحة والتولية، ج:5،ص:161)

إذا اشترى فلوسا بدراهم وليس عند هذا فلوس ولا عند الآخر دراهم ثم إن أحدهما دفع وتفرقا جاز وإن لم ينقد واحد منهما حتى تفرقا لم يجز كذا في المحيط.(الفتاوى الهندية، كتاب الصرف، الفصل الثالث، ج:3،ص:209)


فتویٰ نمبر : 2901/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں