بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

سینما کی تعمیر میں کام کرنا


سوال

آج کل سعودی عرب میں سینما ہال تعمیر ہو رہے ہیں تو کیا اس میں ہمارے لیے کام کرنا جائز ہے؟

جواب

            واضح رہے کہ جس عمل کےکرنے میں بالذات کوئی گناہ نہ ہو تو اس کے کرنے اور اس کے بدلے اجرت  لینے میں شرعاً کوئی قباحت نہیں۔

            صورت مسئولہ میں سینما ہال کی تعمیر کرنا بھی چونکہ ایسا عمل ہے کہ جس میں بالذات کوئی گناہ نہیں، کیوں کہ یہ عمارت سینما کے علاوہ کسی جائز مقصد کے لیے بھی استعمال ہوسکتی ہے، اس لیے اس کی تعمیر میں کام کرنا اور اس کی اجرت وصول کرنا معمار یا مزدور کے لیے جائز ہے۔

 

(قوله وجاز تعمير كنيسة) قال في الخانية: ولو آجر نفسه ليعمل في الكنيسة ويعمرها لا بأس به لأنه لا معصية في عين العمل. (ردالمحتار على الدرالمختار، كتاب الحظر والإباحة، باب الاستبراء وغيره، ج:9،ص:62)


فتویٰ نمبر : 2900/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں