بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 25/10/2026

دارالافتاء

 

غیر یقینی مقدار تک سفر کرنےوالے کے لیے قصر یا اتمام کا حکم


سوال

ایک شخص جو مدرسے کا سفیر ہے مگر اس کو یقینی طور پر معلوم نہیں ہے کہ کتنی مسافت طے کریگا کبھی 60/70کلو میٹر طے کر تا ہے اور کبھی 100 کلومیٹر سے بھی آگے جانا پڑجاتا ہے. تو یہ شخص قصرواتمام کے بارے میں شک میں مبتلا ہے. آیا یہ قصر کرے گا یا اتمام؟

جواب

            واضح رہے کہ اگر کسی شخص  کا سفر شرعی  کی مسافت کے بقدر سفر  کرنے کا حتمی ارادہ نہ ہو بلکہ یہ امکان ہو کہ کم فاصلہ طے کرے گا یا سفر شرعی کی مسافت  کے بقدر یا اس سے زیادہ مسافت طے کرے گا تو ایسی صورت میں یہ شخص  مسافر شمار نہیں ہوگا۔

          لہذا صورت مسئولہ کے مطابق  اگر کوئی شخص  مدرسہ کے لیے چندہ  کی غرض سے اپنے شہر سے نکلے اور حتمی طور پر یہ طے نہ کرے  کہ وہ مسافت شرعی کے بقدر سفر کرے گا  یا اس  سے کم مسافت پر جانے کے بعد دوبارہ لوٹے گا تو اس صورت میں وہ مسافر شمار نہیں ہوگا چاہے جتنا بھی دور چلا جائے  لہذا پوری نماز پڑھے گا۔ تا ہم اگر واپسی میں  سفر شرعی کی بقدر  یا اس سے زیادہ  مسافت ہو تو اس  صورت میں قصر کرے گا۔

 

( من طاف الدنيا بلا قصد لم يقصر)۔ وقال ابن عابدين (قوله: بلا قصد) بأن قصد بلدة بينه وبينها  يومان للإقامة بها فلما بلغها  بدا أن يذهب إلي بلدة  بينه وبينها  يومان وهلم جرا۔ح ۔قال في البحر: وعلى هذا قالوا أمير خرج مع جيشه في طلب العدو ولم يعلم أين  يدركهم  فإنه يتم  وإن طالت المدة أو المكث؛ أما في الرجوع فإن كانت مدة سفر قصر۔ اھ۔ ۔ (الدر المختار مع ردالمحتار، باب صلاة المسافر،ج:2، ص:122)


فتویٰ نمبر : 8986/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں