بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 21/10/2026

دارالافتاء

 

داڑھی کی حدود، مقدار اور حکم


سوال

شریعت میں داڑھی کی حدود ،مقدار اور حکم کیا ہے؟ اور نوجوان کے لئے اطراف سے بال لینے (ایک مٹھی سے کم کرنے) کا کیا حکم ہے؟

جواب

            ایک مٹھی داڑھی رکھناہرمسلمان پرواجب ہے۔حضورصلی اللہ علیہ وسلم نےاپنی امت کومشرکین کی مخالفت میں داڑھی بڑھانےکاحکم دیاہے۔داڑھی کااطلاق ان بالوں پرہوتاہےجونیچےجبڑےکی ہڈی کےاوپراگتےہیں،اس کی حدوددونوں طرف کنپٹی تک جب کہ نیچےٹھوڑی کےنیچےتک ہیں،لہذاوہ بال جواطراف میں جبڑوں پرہوں،وہ بھی داڑھی ہے،اس لیےان بالوں کاایک مٹھی سےکم کرناجائزنہیں۔البتہ جوبال رخساراورجبڑوں سے نیچےگلےپرہوں،ان پرشرعاداڑھی کااطلاق نہیں ہوتا،اس لیے ان کوصاف کرناجائزہے۔

 

 وفي شرح الإرشاد: اللحية الشعر النابت بمجتمع اللحيين والعارض ما بينهما وبين العذار وهو القدر المحاذي للأذن يتصل من الأعلى بالصدغ ومن الأسفل بالعارض.(البحرالرّائق،کتاب الطھارۃتحت قوله(لحیته)،ج1ص(34

والقص سنة فيها وهو أن يقبض الرجل لحيته فإن زاد منها على قبضته قطعه كذا ذكر محمد رحمه الله تعالى في كتاب الآثار عن أبي حنيفة رحمه الله تعالى قال وبه نأخذ كذا في محيط السرخسي.(الفتاوی الھندیة،کتاب الکراھیة،الباب التاسع عشر:فی الختان...،ج5ص414)

وأماالأخذمنھا:وھی دون ذلک کمایفعله بعض المغاربة ومخنثة الرجال،فلم یبحه أحد.(ردالمحتارعلی الدّرالمختار،کتاب الصوم،مطلب فی الأخذ من اللحیة،ج3ص398)


فتویٰ نمبر : 4810/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں