بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

لفظ" آزاد " کے ساتھ طلاق کا وقوع


سوال

میں کراچی کے  دینی ادارے  کا طالب  علم ہوں،ایک  فقہی  مسئلہ میں آپ حضرات کی رائے لینا چاہتا ہوں کہ اگر لفظ ”آزاد“سے طلاق دی جائے تو کون سی طلاق  واقع  ہوتی ہے، صریح یا بائن؟آج کل  یہ لفظ صریح میں  سے ہے یا کنایہ میں سے۔

جواب

         واضح رہے کہ”آزاد“بذات خود  اگر  چہ کنائی لفظ ہے، لیکن  جس عرف میں   یہ لفظ طلاق ہی کے لیے استعمال  ہوتا ہو،وہاں  فقہاے کرام نے اس کوطلاق صریح  کے ساتھ ملحق کرکے  نیت  کے بغیر بھی اس سے طلاق  کے وقوع  کا قول  کیا ہے۔ ہمارے عرف  میں بھی لفظ”آزاد“طلاق  ہی  کے لیے استعمال  ہوتا ہے،اس لیے اس سے بلا نیت  بھی طلاق رجعی واقع ہوگی۔

 

فإذا قال رهاكردم أي سرحتك يقع به الرجعي مع أن أصله كناية أيضا، وما ذاك إلا لأنه غلب في عرف الفرس استعماله في الطلاق۔(ردالمحتارعلی الدرالمختار،كتاب الطلاق،باب الكنايات،ج:4ص:530)


فتویٰ نمبر : 6312/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں