بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/10/2026

دارالافتاء

 

بینک سے قسطوار گاڑی خریدنا


سوال

اگر کوئی شخص بینک سے گاڑی خریدنا چاہتا ہو گاڑی کی اصل قیمت مثلا پندرہ لاکھ ہے اور وہ قسطوار بیس لاکھ میں دے رہے ہوتو کیا عام روايتيى بینک سے اس طرح گاڑی خرید لینا جائز ہے ؟

جواب

         روایتی بینک سے جب کوئی قسطوار گاڑی خریدنا چاہتا ہے تو بینک کی طرف سے  خریدار پر قسط مؤخر ہونے کی  صورت میں  اضافی رقم ادا کرنےکی  شرط لگائی جاتی ہے جو کہ فقہائے کرام کے نزدیک سود کے زمرے میں داخل  ہے۔لہذاکسی  روایتی بینک (Conventional Bank) گاڑی خریدنا  ناجائز ہے ۔

 

﴿أَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا﴾ (البقرة:275)


فتویٰ نمبر : 2904/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں