بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 25/10/2026

دارالافتاء

 

تعلیمی اداروں میں خلاف ورزی کی وجہ سے طلبا سے مالی جرمانہ لینا


سوال

تعلیمی اداروں میں غیر حاضری یا کسی قانون کی خلاف ورزی کی وجہ سے طلبہ سے مالی جرمانہ لینا جائز ہے  یا نہیں؟

جواب

              واضح رہے کہ تعزیر بالمال(مالی جرمانے) کے جواز اور عدمِ جواز میں فقہاے کرام کا اختلاف ہے ، اکثر فقہا نے تعزیر بالمال کو ناجائز قرار دیا ہے، جب کہ امام ابو یوسفؒ سے اس کا جواز منقول ہےاور بعض متاخرین فقہا ے احناف نے بھی اسی قول کو اختیار کیا ہے۔ موجودہ حالات کا تقاضہ بھی یہی ہے کہ بعض انتظامی امور میں مالی جرمانہ مقرر کیا جائے، کیونکہ تجربہ سے ثابت ہے کہ مالی جرمانے کی سزا کے اثرات زیادہ  بہتر ہوتے ہیں بدنی سزا کے مقابلے میں، علاوہ ازیں بدنی سزا کی تحدید بھی موجودہ حالات کے تناظر میں مشکل ہے اور نفرت کاسبب بنتی ہے۔

             لہذا صورتِ مسئولہ میں کسی تعلیمی ادارے میں  غیر حاضری یا کسی قانون کی خلاف ورزی کی صورت میں نظم کو برقرار رکھنے کے واسطے طلبہ پر  مناسب مقدار میں مالی جرمانہ عائد کرنے کی گنجائش  ہے، البتہ اس رقم کو ذاتی استعمال میں لانا جائز نہیں، بلکہ اگر مجرم  جرم سےتوبہ کر لے تو مال اسے لوٹا دیا جائے ۔ تاہم اگر اس کی توبہ سے ناامیدی پیدا  ہوتواس کو مفاد عامہ میں خرچ کیا جائے ۔

 

يجوز التعزير بأخذ المال وهو مذهب أبي يوسف وبه قال مالك ، ومن قال : إن العقوبة المالية منسوخة فقد غلط على مذاهب الأئمة نقلا واستدلالا وليس بسهل دعوى نسخها، وفعل الخلفاء الراشدين وأكابر الصحابة لها بعد موته صلى الله عليه وسلم مبطل لدعوى نسخها۔ (معين الحكام في ما يتردد بين الخصمين من الأحكام، فصل في عقوبةالعائن ،ص:231)

وأفاد في البزازية أن معنى التعزير بأخذ المال على القول به إمساك شيء من ماله عنه مدة لينزجر ثم يعيده الحاكم إليه، لا أن يأخذه الحاكم لنفسه أو لبيت المال كما يتوهمه الظلمة إذ لا يجوز لأحد من المسلمين أخذ مال أحد بغير سبب شرعي.وفي المجتبى لم يذكر كيفية الأخذ وأرى أن يأخذها فيمسكها، فإن أيس من توبته يصرفها إلى ما يرى۔(ردالمحتار، كتاب الحدود،  باب التعزير، مطلب في التعزير بأخذ المال، ج:6، ص:105)


فتویٰ نمبر : 4808/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں