بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 11/08/2026

دارالافتاء

 

نذر مانی ہوئی چیز کسی کو دینے کے بعد نذر کی ادائیگی


سوال

ایک لڑکی نے نذر مان لی تھی کہ اگر میرا فلاں کام ہوگیاتو میں اپنے سونے کا جھومر فلاں شخص کو دوں گا، لیکن اس کام کے ہونے سے پہلے اس نے وہ جھومر کسی اور کو دے دیااور اس شخص نے اس کو دوسرے زیوارات کے ساتھ ملا کر ڈھال دیا اور اس جھومر  کی جنس اب بالکل تبدیل ہوگئی ہے۔اب سوال یہ ہے کہ اس کا وہ کام ہوگیا اب وہ نذر پورا کرنا چاہتی ہے، لیکن اسے معلوم  نہیں کہ اس جھومر کی مقدار کتنی تھی۔تو نذر پورا کرنے کی کیا صورت ہوگی؟نیز اس مخصوص شخص کو دینا لازم ہے یا کسی او ر کو بھی دے سکتی ہے؟

جواب

            شریعتِ مطہرہ کی رو سے جب کوئی شخص کسی کام کے ہونے پراپنی مملوک معین چیز کسی معین شخص کو دینے کی نذر مان لے تو اس کام کے ہونے کی صورت میں  نذر کو پورا کرنا لازم ہے، البتہ اس معین چیز کے علاوہ اس کی قیمت سے بھی نذر پورا کرنا جائزہے۔ نیز متعین فقیر کو کوئی چیز دینے کی نذر ماننے کی صورت میں  اسی شخص کو دینا لازم نہیں، بلکہ اس کے علاوہ اگر کسی دوسرے فقیر کو وہ چیز دے دی تو بھی ذمہ فارغ ہوگا۔

صورت مسئولہ میں جب جھومر کے دینے کی نذر مانی تھی وہ کسی اور کو دینے کی صورت میں اس کی قیمت دی جاسکتی ہے ، لہذااندازے سے اس جیسے جھومر کی قیمت دی جائے۔نیز پہلے سے متعین کیے ہوئے شخص کے علاوہ کسی اور کو دینا بھی جائز ہے۔

 

نذر لفقراء مكة جاز الصرف لفقراء غيرها---- نذر أن يتصدق بعشرة دراهم من الخبز فتصدق بغيره جاز إن ساوى العشرة كتصدقه بثمنه۔(الدرالمختار على صدر ردالمحتار، كتاب الأيمان، ج:5، ص: 524-525)


فتویٰ نمبر : 8928/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں