بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 22/10/2026

دارالافتاء

 

درزی کا عورتوں کا غیر شرعی لباس سینا


سوال

ایک شخص درزی ہے اور لیڈیز کے سوٹ سیتا ہے توکہااس کےلیے عورتوں کے کپڑے سینا شرعا جاِئز ہے؟دوسری بات یہ کہ آج کل جو فینسی کپڑے ہیں جو شرعا درست نہیں ہیں جیسے جن کے بازو آدھے ہوتے ہیں یا کلائی سے اوپر ہوتے ہیں یا بازوجھالی کے ہوتے ہیں،توایسے کپڑے سینا اور اس پر اجرت لینا کیسا ہے؟ہمارایہ کسب ہےاگر ان کے انتخاب کے مطابق نہیں سیتے تو گاہک نہیں آتےاور کوئی دوسرا کاروبار بھی اس کے علاوہ نہیں ہے۔

جواب

               شرعی نقطہ نظر سے درزی کا پیشہ اختیار کرنا اور اس کوکمائی کا ذریعہ بناناجائز ہے۔مرد درزی کےلیےزنانہ لباس سینے میں شرعا کوئی قباحت نہیں ۔شریعت نے کسی خاص طرزلباس کی تخصیص نہیں کی ہے، بلکہ مردوں اور عورتوں کے لباس کے لیے چند شرائط بتلائے ہیں جس میں ایک اہم شرط یہ بھی ہے کہ وہ لباس ساتر ہو یعنی جسم کو چھپانے والا ہو لہذا وہ لباس جو چھوٹا ہونے کی وجہ سے ساتر نہ ہو اوراس سے اعضاء نظر آتے ہوں مثلا عورتوں کے لیے نصف آستین والی قمیص  یا وہ لباس جو باریک ہواورشفاف ہونے کی وجہ سے ساتر نہ ہو یعنی اس میں سے جسم کی کھال اور رنگت نظر آتی ہو یا وہ لباس چست ہونے کی وجہ سے غیر ساتر ہویعنی لباس اتنا تنگ ہو کہ جسم کی ساخت و جسامت اس سے معلوم ہوتی ہو تو اس لباس کا پہننا جائز نہیں اور ایسے لباس کاسینا بھی کراہت سےخالی نہیں۔

             صورت مسئولہ میں مرد درزی کے لیے زنانہ سوٹ سینا جائز ہے۔البتہ ایسے کپڑے جن کے بازوآدھے ہوں یا کلائی سے اوپر ہوں  یا جن کے بازو جھالر کے ہوں تو ایسے کپڑے سینا مکروہ ہے۔اس لیے اس کی بجائےکوئی دوسرا روزگار تلاش کرنا چاہیے۔تاہم کپڑے سی لینے کے بعد ان کی اجرت لینا حلال ہوگا۔

 

فإذا ثبت کراہة لبسہا للتختم ثبت کراہة بیعہا وصیغہا لما فیہ من الإعانة علی ما لا یجوز وکل ما أدیٰ إلی ما لا یجوز لا یجوز۔ (الدرالمختار علی صدر ردالمحتار، کتاب الحظر والإباحۃ، فصل في المس، ج:9، ص:556)

أمره إنسان أن يتخذ له خفا على زي المجوسي أو الفسقة أو خياطا أمره إنسان أن يخيط له ثوبا على زي الفساق يكره له أن يفعل ذلك(مجمع الانھر، کتاب الکراھیة، فصل فی الکسب، ج:2،ص:530)

(و) جاز (بيع عصير) عنب (ممن) يعلم أنه (يتخذه خمرا) لأن المعصية لا تقوم بعينه بل بعد تغيره(الدرالمختار علی صدر ردالمحتار، كتاب الحظر والإباحة، باب الاستبراء،ج:۹، ص:560)


فتویٰ نمبر : 4809/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں