بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 25/10/2026

دارالافتاء

 

معدنیات کے خمس کامصرف


سوال

معدنیات کے خمس کامصرف مال غنیمت کےخمس کےمصرف کی طرح ہے،یازکاۃوعشرکی مانند؟

جواب

            فقہاےکرام کی عبارات سےمعلوم ہوتاہےکہ خمس چاہےمال غنیمت کاہو،یامعدنیات وذخائرکا،اس کا مصرف مسکین ،یتیم اورحاجت مندمسافرہیں،البتہ حضورﷺ کےرشتہ دار،یعنی بنوہاشم اوربنومطلب کےفقرا اس کے زیادہ حقدارہیں، چنانچہ اگرکوئی شخص حکومت کودینےکی بجائےخود ان میں سےکسی کو دےدے تواس سےاس کاذمہ فارغ ہوجائےگا،دوبارہ اس سےاس کامطالبہ نہیں کیاجائےگا۔نیزمعدنیات کےخمس کامصرف چونکہ مال غنیمت کےمصرف کی مانندہے،اس لیےخمس کی ادائیگی کرتےہوئے اگر اپنی ناداراولاد ، یا والدین  کودےدیا،یاخوداستعمال میں لایا بشرطیکہ باقی چاراخماس اس کےلیےکافی نہ ہوں ،یعنی وہ مقدارنصاب (دوسودرہم یااس کی قیمت)سےکم ہوں توبھی اس سےاس کاذمہ فارغ ہوجائےگا۔

 

فيقسم الخمس عندنا على ثلاثة أسهم: سهم لليتامى، وسهم للمساكين، وسهم لأبناء السبيل ويدخل فقراء ذوي القربى فيهم، ويقدمون، ولا يدفع إلى أغنيائهم شيء۔  (بدائع الصنائع في ترتیب الشرائع، کتاب السیر، ج:۹، ص:۵۰۰، دارالکتب العلمية)

وأما عندنا فالواجب خمس الغنيمة في الكل لا يشترط في شيء منه شرائط الزكاة ويجوز دفعه إلى الوالدين، والمولودين الفقراء كما في الغنائم.ويجوز للواجد أن يصرف إلى نفسه إذا كان محتاجا ولا تغنيه الأربعة الأخماس۔۔۔۔بأن كان دون المائتين فأما إذا بلغ مائتين لا يجوز له تناول الخمس۔۔۔۔ولو تصدق بالخمس بنفسه على الفقراء ولم يدفعها إلى السلطان جاز ولا يؤخذ منه ثانيا بخلاف زكاة السوائم، والعشر والله أعلم.(أيضا، کتاب الزکاۃ، ج:۲، ص:۵۲۸-۵۳۲، دارلکتب العلمية)


فتویٰ نمبر : 4807/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں