بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/10/2026

دارالافتاء

 

زورسےپرندےکاسربدن سےجداکرنا


سوال

کیاغلیل سےپرندوں کاشکارکرتےہوئےکوئی پرندہ پتھرپرلگ کرزندہ بچ جائے،اورفورااس کاسرزورسےبدن سےجداکیاجائے،تاکہ مردارنہ ہو،تواس سےپرندہ حلال ہوگایانہیں،اور اگرتیزدھارپتھرسےذبح کیاجائے،توکیاحکم ہے؟

جواب

             اگرکوئی حلال جانورقابومیں آجائے،تواس کاکھاناتب حلال ہوگا،جب اسےذبح اختیاری کےساتھ ذبح کیاجائے،اورذبح اختیاری یہ ہےکہ جانورکوتیزدھارآلہ سےذبح کیاجائے۔

            صورتِ مسؤلہ میں اگرغلیل سےکوئی پرندہ ماراجائے،تواس کےحلال ہونےکےلیےضروری ہےکہ اس میں جان باقی ہواوراسےتیزدھارآلہ سےذبح کیاجائے،محض زورسےاس کاسربدن سےجداکرنےکی صورت میں پرندہ مردارہوگا،اوراس کاکھاناحرام ہوگا،البتہ تیزدھارپتھرسےذبح کرنےکی صورت میں پرندہ حلال ہوگا،اوراس کاکھاناجائزہوگا۔

 

قال: الذكاة شرط حل الذبيحة؛ لقوله تعالى: { إلا ما ذكيتم } ،ولأن بها يتميز الدم النجس من اللحم الطاهر وكما يثبت الحل يثبت به الطهارة في المأكول وغيره فإنها تنبىء عنها، ومنه قوله عليه الصلاة والسلام ذكاة الأرض يبسها وهي اختيارية: كالجرح فيما بين اللبة واللحيين واضطرارية :وهي الجرح في أي موضع كان من البدن ،والثاني كالبدل عن الأول لأنه لا يصار إليه إلا عند العجز عن الأول، وهذا آية البدلية، وهذا لأن الأول أعمل في أخراج الدم ،والثاني أقصر فيه فاكتفى به عند العجز عن الأول ،إذ التكليف بحسب الوسع.(الھدایة،کتاب الذّبائح،ج7ص126)

قال:ويجوز الذبح بالظفر والسن والقرن إذا كان منزوعا حتى لا يكون بأكله بأس... ويجوز الذبح بالليطة والمروة وكل شيء أنهر الدم.(الھدایة،کتاب الذّبائح،ج7ص137)


فتویٰ نمبر : 4806/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں