بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 23/10/2026 |
دارالافتاء
بیوی کی سوتیلی ماں سے نکاح کرنا
سوال
زید نےدو شادیاں کی تھیں ، ایک بیوی کا نام عائشہ ہے اور دوسری بیوی کا نام زینب ہے، عائشہ کے بطن سے زید کی ایک بیٹی فاطمہ ہے، اور فاطمہ کا نکاح خالد سے ہواہے، اب زید فوت ہواہے اور خالد نے زید کی بیوی زینب سے نکاح کرلیا ہے ، کیا خالد کے لیے یہ نکاح کرنا جائز ہے؟
جواب
شریعت مطہرہ کی رو سے ان دو عورتوں کو ایک نکاح میں جمع کرنا جائز نہیں جن میں سےایک عورت کو اگر مرد فرض کرلیا جائےتو دوسری کے ساتھ اس کا نکاح جائز نہ ہو، اسی طرح دوسری عورت کو اگرمرد فرض کرلیا جائے،توپہلی کے ساتھ اس کانکاح جائز نہ ہو، لیکن اگر ایک صورت میں نکاح جائزنہ ہو، اور دوسری صورت میں جائزہو،تو ایسی دو عورتوں کو ایک نکاح میں جمع کرنا جائز ہے۔
صورت مسئولہ کے مطابق اگر زینب کو مرد فرض کرلیا جائے ، تو اس صورت میں فاطمہ، زینب کےلیے اجنبی اور غیرمحرم شمار ہو گی اوران کا نکاح جائز ہوگا، لہذا اگرخالدنے اپنی بیوی فاطمہ کی سوتیلی ماں زینب کے ساتھ نکاح کرکے دونوں کو نکاح میں جمع کیا ہو تو یہ جائز ہے۔
ولا يجمع بين امرأتين لو كانت إحداهما رجلا لم يجز له أن يتزوج بالأخرى …ولا بأس بأن يجمع بين امرأة وبنت زوج كان لها من قبل لأنه لا قرابة بينهما ولا رضاع …قلنا امرأة الأب لو صورتها ذكرا جاز له التزوج بهذه والشرط أن يصور ذلك من كل جانب ۔(الهداية، كتاب النكاح، فصل في بيان المحرمات، ج:3، ص:13(
وقيد بقوله:(أية فرضت)لأنه لو جاز نكاح إحداهما على تقدير مثل المرأة وبنت زوجها أو امرأة ابنها فإنه يجوز الجمع بينهما عند الأئمة الأربعة وقد جمع عبد الله بن جعفر بين زوجة علي وبنته ولم ينكر عليه أحد۔(البحرالرائق، كتاب النكاح، فصل في المحرمات، ج:3، ص:173)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 329
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 246
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 894
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 455
- کتاب الصوم | فتاوئ : 91
- کتاب الحج | فتاوئ : 112
- کتاب النکاح | فتاوئ : 576
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 494
- خلع | فتاوئ : 50
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 7
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 60
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 88
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 477
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 102
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 78
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 82
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 22
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 177
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 413
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 22
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 32
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 8
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 199
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 154
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 63
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 43
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 324
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1193
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 34
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 388
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں