بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 15/08/2026

دارالافتاء

 

باپ کی وفات کے بعد بیٹے کا چیک کے ذریعے پنشن لینا


سوال

 اوصاف مرحوم کا 4 ستمبر کو انتقال ہوا، انہوں نے اپنے بیٹے کو تین چیک  دستخط کرکے دئیےاکاؤنٹ سے پنشن نکالنے کےلیے، اب اس ماہ کی پنشن آگئی ہے، کیا اب اس چیک کے ذریعےپنشن کی رقم کو بیٹااستعمال کرسکتا ہے یا نہیں؟بیٹا بے روزگار اور کنواراہے اور ایک شادی شدہ بہن ہے وہ بھی غریب ہے، بیٹے اور باپ کا خرچہ پنشن سے چلتا تھا۔

جواب

       واضح رہےکہ پنشن حکومت کی جانب سے سرکاری ملازم کےلیے ایک عطیہ ہو تاہے، جواس کی زندگی میں اس کو ملتا رہتاہے اور اس کی وفات کے بعد سرکاری قوانین کے مطابق یہ پنشن کسی وارث کے نام کردیاجاتاہے۔ 

       صورت مسئولہ کے مطابق پنشنر کی وفات کے بعد چونکہ قانونی لحاظ سے اس کے پنشن کا حق ختم ہو گیا ہےاس لیےمتعلقہ ادارہ اوربینک کووالدصاحب کی وفات سےلاعلم رکھ کر دستخط شدہ چیک کے ذریعےبیٹے کےلیے پنشن کی رقم نکال کراستعمال کرنا ناجائز ہے، البتہ والدصاحب  کی وفات کے وقت ان کے اکاؤنٹ میں اگر کوئی رقم پہلے سے موجودتھی تووہ اس کے مالک تھے لہذا اس میں وراثت کے احکام جاری ہوں گے،  بیٹے کے لیے ضروری ہے کہ متعلقہ ادارے کو اپنے والد صاحب کی وفات کی خبر دے، پھر حکومت قوانین کے مطابق جس کے نام یہ پنشن جاری کردے تو یہ اس کا حق ہوگا ،دیگر ورثا اس میں شریک نہیں ہوں گے۔

 

لايجوز لأحد أن يتصرف في ملك الغير بلا إذنه۔( شرح المجلة لسليم رستم باز، المادة:96، ص:61)

الترکۃ فی الإصطلاح ما ترکہ المیت من الأموال صافيا عن تعلق حق الغير بعين من الأموال۔(رد المحتار، كتاب الفرائض، ج:10، ص:493)


فتویٰ نمبر : 3122/297/323

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں