بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/10/2026

دارالافتاء

 

اجیر خاص کا اپنی جگہ کسی اور کو اجیر بنانا


سوال

اگر کوئی اجیر خاص اپنی جگہ کسی دوسرے کو مقرر کر کے اور اسے کچھ پیسے اپنی اجرت سے دے اور باقی اجرت خود لے تو یہ کیسا ہے ،اور جو لینے والا ہے اس کے حق میں کیسا ہے ،وہ تو اس عمل کے عوض لے رہا ہے۔

جواب

          واضح رہے کہ اجیر خاص  کی قانونی اور شرعی ذمہ داری ہےکہ وہ مقررہ مدت میں اپنے آپ کو ذمہ داری کے لیے حوالہ کرےورنہ اجیر خاص بذات خود تنخواہ کا مستحق نہیں ہو گا لہذااس کو اختیار نہیں کہ کسی اور شخص کو ڈیوٹی پر مقرر کر لے ۔

         صورت مسؤلہ میں اجیر خاص اس وقت تنخواہ لینے کا مستحق ہوگا،جب خود اپنی  ڈیوٹی  مقرر کردہ اوقات میں کرے،چنانچہ اجیرخاص کا اپنی جگہ کسی دوسرے شخص کو  مقرر کرنااور خودحاضر نہ ہو کر تنخواہ لینا جائز نہیں ،تاہم اگر اجیر خاص نے اپنا نائب مقرر کر لیا تو یہ ملازم اور اس اجیر کے مابین  عقد اجارہ طے ہوا،اب اگر نائب نے مدت اجارہ میں اپناعمل پورا کیا ہو ،اور مدت اجارہ میں حاضر ہوا ہو تووہ اجرت کامستحق ٹھہرتا ہے ،لیکن احتیاط یہ ہے کہ  اس جیسے معاملات اور معاہدات سے گریز کیا جائے۔

 

إذا استأجر رجلا يوما ليعمل كذا فعليه أن يعمل ذلك العمل إلى تمام المدة ولا يشتغل بشيء(الفتاوى الھندیة ،كتاب الاجاره الباب الثالث،ج:4،ص:247)

قال في البحر وحاصل في ما في القنية أن النائب لا يستحق شيئا من الوقف لأن الاستحقاق بالتقرير ولم يوجد ويتسحق الأصيل الكل إن عمل أكثر السنة وسكت عما يعينه الأصيل للنائب كل شهر في مقابلة عمله والظاهر أنه يستحق لأنها إجارة وقد وفى العمل بناء على قول المتأخرين(ردالمحتارعلى درالمختار،كتاب الوقف،ج:6،ص:631)

في التتارخانية المستأجر إجارة فاسدة إذا آجر من غيره إجارة صحيحة جاز كذا في الصغرى(الفتاوى الھندیة،الباب السابع فى اجارةالمستاجر،ج:4،ص:426)

الأجير الذي استؤجر على أن يعمل بنفسه ليس له أن يستعمل غيره(درر الحكام شرح مجلةالاحكام،المادة:571،ج:1،ص:5619


فتویٰ نمبر : 2898/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں