بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 23/08/2026

دارالافتاء

 

قرآن مجید کے بوسیدہ نسخوں اور اوراق کاحکم


سوال

قرآن مجید کے  ضعیف شدہ نسخوں اور اوراق کا  جلانا  شریعت کی رو سے کیسا ہے ؟

جواب

            فقہائے کرام کی عبارات سے معلوم ہوتاہے ،کہ قران مجید کے جو نسخے اور اوراق اس قدر بوسیدہ ہو جا ئیں کہ پڑھنے کے قابل نہ رہیں  اور ضائع ہونے کا خدشہ ہو تو اس کو پاکیزہ کپڑے میں باندھ کر کےمحفوظ جگہ میں دفن کیا جائے  ،  ان اوراق اور نسخوں کا جلانا ادب کے خلاف ہے ۔

 

المصحف إذا صار بحال لا يقرأ فيه يدفن كالمسلم"۔ (الدر المختار مع رد المحتار، کتاب الطهارة، سنن الغسل ،ج:1،ص:177)

المصحف إذا صار خلقا وتعذرت القراءة منه لا يحرق بالنار، أشار الشيباني إلى هذا في السير الكبير وبه نأخذ، كذا في الذخيرة". (الفتاوی الهندیة، کتاب الکراهیة، الباب الخامس في آداب المسجد والقبلة والمصحف وما كتب فيه شيء من القرآن ،ج: 5،ص:323)

المصحف إذا صار خلقا وتعذر القراءة منه لا يحرق بالنار إليه أشار محمد وبه نأخذ، ولا يكره دفنه، وينبغي أن يلف بخرقة طاهرة، ويلحد له لأنه لو شق ودفن يحتاج إلى إهالة التراب عليه، وفي ذلك نوع تحقير إلا إذا جعل فوقه سقف وإن شاء غسله بالماء أو وضعه في موضع طاهر لا تصل إليه يد محدث ولا غبار       (ردالمحتارعلى الدرالمختار،فرع يكره اعطاءسائل المسجداذالم يتخط رقاب،ج:6،ص:422)


فتویٰ نمبر :

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں