بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

نکاح مسیار کاحکم


سوال

نکاح مسیار کیا ہے اور اس کا شرعاً کیا حکم ہے؟

جواب

                واضح رہے کہ نکاح کی مشروعیت کا مقصد صرف خواہش کی تکمیل نہیں، بلکہ بچوں کی پیدائش اور پرورش کر کے نسل انسانی کی بقا اور حفاظت جیسے عظیم مقاصد کے حصول کے لیے نکاح کو مشروع کیا گیا اور انہی مقاصد کے حصول کے لیے انسان میں طبعی خواہش کا مادہ پیدا کیا گیا۔ لہٰذا جہاں کہیں یہ مقاصد فوت ہو رہے ہوں تو وہ نکاح شرعاً جائز نہیں ہوگا، یہی وجہ ہے کہ متعہ اور موقت نکاح کو شریعت میں ممنوع قرار دیا گیا ہے۔

             مسیار کے نام سے جو نکاح معروف ہے اس سے مراد یہ ہے کہ کوئی شخص حالت سفر میں ہو یا تعلیم یا ملازمت وغیرہ کے لیے دوسرے ملک میں جائے اور وہاں اپنی طبعی خواہش پوری کرنے کے لیےکسی عورت سے اس نیت سےنکاح کرتا ہے  کہ جب وہاں سے اپنےملک واپس جائےگا  تو اس عورت کو طلاق دے دےگا، نیز ا س نکاح میں عورت بھی اپنے بعض بنیادی حقوق مثلاً: نان، نفقہ وغیرہ سے دست بردار ہوتی ہے۔

            چونکہ اس نکاح سے زوجین کا مقصودنسل انسانی کی  افزائش اور بقا و حفاظت نہیں ہوتی بلکہ محض اپنی خواہش کی تکمیل ہوتی ہے، نیز اس میں نکاح کرتے وقت مرد کی نیت  کچھ عرصہ بعد طلاق دینےکی ہوتی ہے اگر چہ زبان سے اس کا تذکرہ نہیں کرتا،اس لیے  نکاح موقت کے ساتھ اس کی مشابہت پیدا ہونے کی وجہ سے یہ شرعاً ممنوع ہے،اس کے علاوہ اس میں بلاوجہ بیوی کو طلاق دینا ہوتا ہے جو اللہ تعالی کے ہاں حلال چیزوں میں سب سے مبغوض ترین چیز ہے،اس لیے ان مفاسد کی وجہ سے اس کی شرعاً اجازت نہیں دی جاسکتی، تاہم اگر کسی نے دو گواہوں کی موجودگی میں باقاعدہ ایجاب و قبول کرلیا ہو اور بوقت عقد نکاح کے مؤقت ہونے کی کوئی شرط نہ لگائی گئی ہو اور نہ ایجاب و قبول میں نکاح مسیار کی تصریح کی گئی ہو تو اب یہ نکاح شرعاً منعقد ہوگا، البتہ بلاضرورت طلاق دینا جائز نہ ہوگا۔

 

وإيقاع الطلاق مباح وإن كان مبغضا في الأصل عند عامة العلماء ومن الناس من يقول لا يباح إيقاع الطلاق إلا عند الضرورة لقوله صلى الله عليه وسلم: "لعن الله كل ذواق مطلاق".(المبسوط للسرخسي، كتاب الطلاق، ج:6، ص:2)

(وَالنِّكَاحُ الْمُؤَقَّتُ بَاطِلٌ مِثْلُ أَنْ يَتَزَوَّجَ امْرَأَةً بِشَهَادَةِ شَاهِدَيْنِ إلَى عَشَرَةِ أَيَّامٍ ).وَاَلَّذِي يُفْهَمُ مِنْ عِبَارَةِ الْمُصَنِّفِ فِي الْفَرْقِ بَيْنَهُمَا شَيْئَانِ : أَحَدُهُمَا وُجُودُ لَفْظٍ يُشَارِكُ الْمُتْعَةَ فِي الِاشْتِقَاقِ كَمَا ذَكَرْنَا آنِفًا فِي نِكَاحِ الْمُتْعَةِ . وَالثَّانِي شُهُودُ الشَّاهِدَيْنِ فِي النِّكَاحِ الْمُوَقَّتِ مَعَ ذِكْرِ لَفْظِ التَّزْوِيجِ أَوْ النِّكَاحِ وَأَنْ تَكُونَ الْمُدَّةُ مُعَيَّنَةً ... ( وَلَنَا أَنَّهُ أَتَى بِمَعْنَى الْمُتْعَةِ ) بِلَفْظِ النِّكَاحِ لِأَنَّ مَعْنَى الْمُتْعَةِ هُوَ الِاسْتِمْتَاعُ بِالْمَرْأَةِ لَا لِقَصْدِ مَقَاصِدِ النِّكَاحِ وَهُوَ مَوْجُودٌ فِيمَا نَحْنُ فِيهِ لِأَنَّهَا لَا تَحْصُلُ فِي مُدَّةٍ قَلِيلَةٍ ( وَالْعِبْرَةُ فِي الْعُقُودِ لِلْمَعَانِي ) دُونَ الْأَلْفَاظِ.(العناية شرح الهداية، كتاب النكاح، فصل في بيان المحرمات، ج:2، ص:246)


فتویٰ نمبر : 6308/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں