بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 25/10/2026 |
دارالافتاء
دوران نماز یا طواف پیمپر پہنا ہوا بچہ گود میں لینا
سوال
اگر طواف کرتے وقت کسی عورت کے پاس بےبی ہینگر بیلٹ میں بچہ ہو اور وہ پیمپر میں پیشاب کرے، تو کیا اس کے ساتھ نماز پڑھنا یا طواف کرناجائز ہوگا یا نہیں؟
جواب
نماز کی صحت کی شرائط میں سے ایک شرط طہارت ہے کہ نمازی کا بدن، کپڑے اور جگہ پاک ہو، چنانچہ جہاں کہیں یہ شرط مفقود ہو تو نماز درست نہ ہوگی، اسی طرح اگر نمازی کے اپنے کپڑے پاک ہوں لیکن دوران نماز وہ کسی ایسے بچے کو ایک رکن(تین مرتبہ سبحان اللہ کہنے کے بقدر) تک گود میں اٹھائے رکھےجس کے کپڑے یا بدن نجس ہو تو اس صورت میں بھی نماز درست نہ ہوگی۔
لہٰذا صورت مسئولہ میں اگر عورت کو معلوم ہو کہ بچے نے پیمپر میں پیشاب کیا ہے تو نماز سے پہلے نجاست کو دور کر کے بچے کو پاک کرنا ضروری ہوگا، ورنہ اسی طرح نجس حالت میں بچے کو گود میں لے کر نماز پڑھنا درست نہ ہوگا۔
اسی طرح اگر طواف کے دوران عورت کو معلوم ہوجائےکہ بچے نے پیمپر میں پیشاب کیا ہےتو طواف کو موقوف کر کے پہلے نجاست کو دور کرے پھر طواف کو مکمل کرے، تاہم اگر کسی نے اسی حالت میں طواف کو مکمل کیا تو شرعا یہ طواف ہوجائے گا مگر مکروہ ہوگا، کیوں کہ نجاست کے ساتھ طواف کرنا مکروہ ہے۔
إذا وضع في حجر المصلي الصبي الغير المستمسك وعليه نجاسة مانعة إن لم يمكث قدر ما أمكنه أداء ركن لا تفسد صلاته وإن مكث تفسد بخلاف ما لو استمسك وإن طال مكثه. (الفتاوى الهندية، كتاب الصلوة، الباب الثالث، الفصل الثاني، ج:1، ص:120)
ولو طاف طواف الزيارة وفي ثوبه نجاسة أكثر من قدر الدرهم أجزأه ولكن مع الكراهة ولا يلزمه شيء كذا في المحيط. (الفتاوى الهندية، كتاب المناسك، الباب الثامن، الفصل الخامس، ج:1، ص:310)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 329
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 246
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 894
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 455
- کتاب الصوم | فتاوئ : 91
- کتاب الحج | فتاوئ : 112
- کتاب النکاح | فتاوئ : 576
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 494
- خلع | فتاوئ : 50
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 7
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 60
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 88
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 477
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 102
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 78
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 82
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 22
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 177
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 413
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 22
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 32
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 8
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 199
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 154
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 63
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 43
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 324
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1193
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 34
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 388
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں