بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

ڈاکٹر کالیبارٹری والوں سےکمیشن لینا


سوال

ڈاکٹر حضرات لیباٹریز میں مریض بھیج دیتے ہیں ، پھر ہر ٹیسٹ  میں لیباٹریز والوں سے کمیشن لیتے ہیں کیا ڈاکٹر کےلیے یہ کمیشن لینا جائز ہے؟

جواب

      کسی لیبارٹری والے کے پاس بیمار بھیجنے میں ڈاکٹر کے کردار کو سامنے رکھ کر کمیشن کے جائز یا ناجائز ہونے کا فیصلہ کیا جا سکتا ہے ،یہ حقیقت کسی سے مخفی نہیں کہ بیمار کی کسی خاص لیبارٹری وغیرہ کی طرف رہنمائی میں ڈاکٹر کی کوئی ایسی محنت شامل نہیں ہوتی جس کا وہ معاوضہ طلب کر سکے بلکہ اس کا کردارمحض تشخیص مرض و علاج بتلانے تک محدود رہتا ہے جس کی وہ مستقل فیس وصول کرتا ہے جو کہ شرعا جائز ہے ،اس کے علاوہ کسی لیبارٹری کی طرف رہنمائی  ڈاکٹر کی ذاتی رائےہےجس سےمقصودمتعلقہ لیبارٹری والوں پراچھی کارکردگی کاا ظہار و اعتمادہوتاہےیہ کوئی ایسی محنت وخدمت نہیں جس کامعاوضہ لیا جا سکے بلکہ اس طرح کی رہنمائی پر کمیشن لینا رشوت کی ایک نئی شکل بن جاتی ہے جو فن طب کے مقدس شعبہ سے وابستہ حضرات کیلئے خلاف شریعت ہونے کےساتھ ساتھ  خلاف مروت بھی ہے ۔

 

قال العلامة الآلوسى: تحت قوله تعالى:﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ﴾ ۔۔۔والمعنى لا يأكل بعضكم أموال بعض والمرادبالباطل ما يخالف الشرع كالربا والقمار والبخس والظلم قاله السدي وهو المروي عن الباقر رضي الله تعالى عنه وعن الحسن هو ما كان بغير استحقاق من طريق الأعواض۔ (تفسيرروح المعانى، ج:5، ص:17، النساء:29)

وسئل شمس الأئمة الأوزجندي عمن دفع إلى طبيب جارية مريضة وقال له عالجها بمالك فما يزداد من قيمتها بسبب الصحة فالزيادة لك ففعل الطبيب ذلك وبرئت الجارية فللطبيب على المالك أجر مثل المعالجة وثمن الأدوية والنفقة وليس له سوى ذلك شيء۔ (الفتاوى الهندية، كتاب الإجارة، فصل في المتفرقات، الباب الثانى والثلاثون في المتفرقات، ج:4، ص:528)

لأن الدلالة والإشارة ليست بعمل يستحق به الأجر۔(ردالمحتارعلى الدرالمختار، کتاب ال-جارۃ، باب فسخ الإجارة، مطلب: ضل له شيء فقال: من دلّني عليه فله كذا، ج:8، ص:131)

وكذلك إذا قال هذا القول لشخص معين فدله عليه بالقول بدون عمل فليس له أجرة لأن الدلالة والإشارة ليستا ما يؤخذ عليهما أجر . أما إذا ذهب معه ليدله عليه فله أجر المثل لأن الذهاب عمل وتؤخذ الأجرة في مقابله۔ (دررالحكام شرح مجلة الاحكام، كتاب الإجارة، الباب الثانى، الفصل الثالث، ج:1، ص:502)


فتویٰ نمبر : 4805/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں