بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

مسجد کے لئے وقف کیے گئے قرآن کریم دوسری جگہ منتقل کرنا


سوال

مسجد کے لیے  وقف کیے  گئے قرآن کریم کو گھر یا دوسری جگہ پڑھنے کے لیے لے جا سکتے ہیں یا نہیں؟

جواب

             واضح رہے کہ وقف کی ہوئی چیز کو وہاں استعمال کرنا ضروری ہے ، جہاں  کے لیے واقف نے تصریح کی ہو۔

           لہذا  صورت مسئولہ کے مطابق مسجد کے لیے  وقف کیے  گئے قرآن کریم کے نسخوں کو گھر یا کسی  دوسری جگہ منتقل کرنا درست نہیں، البتہ دوسری مسجد منتقل کرنے کی گنجائش ہے ۔

 

وقف مصحفا على أهل مسجد للقراءة إن يحصون جاز وإن وقف على المسجد جاز ويقرأ فيه، ولا يكون محصورا على هذا المسجد ۔ ( الدر المختار علی صدرردالمحتار ، کتاب الوقف ، مطلب فی وقف النقول قصدا، ج:6 ، ص: 556۔ 557 )


فتویٰ نمبر : 4802/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں