بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 23/10/2026

دارالافتاء

 

میت کی طرف سے نفلی قربانی کرنا


سوال

 میت اور غائب کی طرف سے نفلی کرنے کی صورت میں قربانی کرنے کی صورت میں قربانی کرنے والا  اپنی طرف سے قربانی کرکے ثواب اس کو پہنچائے گا یا باقاعدہ اس میت یا غائب کے نام کا حصہ رکھا جائے گا؟

جواب

            میت کی طرف سے نفلی قربانی کرنا افضل اور مستحسن عمل ہےاور اس کا ثواب میت کو پہنچتا ہے کیونکہ میت کی موت اس تک ثواب پہنچنے سے مانع نہیں بنتی  ، رسول ﷺ کے فعل سے اس کا ثبوت ملتا ہے کہ رسول پاکﷺنے  دو قربانی فرمائے تھے ایک اپنی طرف سے اور دوسری اپنی امت کی طرف سے۔

           صورت مسٔولہ میں اگر کوئی  شخص نفلی قربانی  کرکے اس کا ثواب میت کو بخش دے یا میت کی طرف سے الگ نفلی قربانی کرے دونوں صورتوں میں قربانی مذکورہ شخص کی طرف سے ہو گی اور اس کا ثواب میت کو ملے گا۔

 

قال في البدائع لأن الموت لا يمنع التقرب عن الميت بدليل أنه يجوز أن يتصدق عنه ويحج عنه، وقد صح «أن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - ضحى بكبشين أحدهما عن نفسه والآخر عمن لم يذبح من أمته» وإن كان منهم من قد مات قبل أن يذبح۔۔۔ من ضحى عن الميت يصنع كما يصنع في أضحية نفسه من التصدق والأكل والأجر للميت والملك للذابح. (رد المحتار، كتاب الأضحيةُ، ج:7، ص:471)

(وإن) (مات أحد السبعة) المشتركين في البدنة (وقال الورثة اذبحوا عنه وعنكم) (صح) عن الكل استحسانا لقصد القربة من الكل، ولو ذبحوها بلا إذن الورثة لم يجزه. (الدر المختار على صدر رد المحتار، كتاب الأضحيةُ، ج:7، ص:471)


فتویٰ نمبر : 8919/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں