بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

قربانی کے بڑے جانور میں ایک حصہ حضورﷺ کا رکھنا


سوال

ایک بڑے جانور كے چھ شرکاء مشترکہ طور پر ساتواں حصہ حضور پاکﷺ کا رکھنا چاہیں تو اس کا طریقہ کیا ہوگا؟کیا اس حصے کی رقم یہ چھ شرکاء آپس میں تقسیم کریں گے ، نیز گوشت کا کیا حکم ہو گا؟

جواب

               حضور پاکﷺ کی طرف سے قربانی کرنا افضل اور مستحسن عمل ہے، خود حضور پاکﷺ نے اپنی امت کی طرف سے قربانی فرمائی تھی، اس لیے امت میں سے جس کو اللہ تعالی نے مال سے نوازا ہے اس کو چاہئے کہ حضور پاکﷺ کی طرف سے قربانی کرے۔

              صورت مسٔولہ کے مطابق قربانی کے بڑے جانورمیں  چھ افراد شریک ہو ں اور ہر شریک کا کامل حصہ ہو اور باقی ماندہ ساتویں حصہ میں یہ تمام شرکا کسی ایک کو مالک بنائے بغیر شریک ہو کر نبی پاکﷺ  کی طرف سے قربانی کی نیت کریں تو ایسی صورت میں ہر شریک کے ساتویں حصے  کا کسر کامل حصے کے تابع ہو کر استحسانا جائز ہوگا۔  تاہم احتیاط اس میں ہے کہ تمام شرکاء ساتویں حصے کی رقم اکھٹی کرکے کسی ایک شریک  کو   ساتویں حصے کا مالک بنائیں اور پھر وہ ایک شخص اپنی طرف سے ایصال ثواب کرے،   پہلی صورت میں ساتویں حصے میں چونکہ  سب شریک ہیں اس لیے   اس کو وزن کے اعتبار سے برابر چھ حصوں میں تقسیم کیا جائے گا ، تقسیم کے بعد اگر سب شرکا اپنی مرضی سے خود استعمال کریں یا کسی کو دینا چاہے تو دی دیں ۔

 

ولو كانت البدنة بين اثنين نصفين تجوز في الأصح، لأنه لما جاز ثلاثة الأسباع جاز نصف السبع تبعا له. (الهداية، كتاب الأضحية، ج:7، ص:159، مكتبة البشرى)

(لأنه لما جاز ثلاثة الأسباع جاز نصف السبع تبعا له) لأن ذلك النصف وإن لم يصر أضحية، لكنه صار قربة تبعا للأضحية، وكم من شيء ثبت ضمنا ولا يثبت قصدا وله نظائر كثيرة منها إذا ضحى شاة فخرج من بطنها جنين حي، فإنه يجب عليه أن يضحيها وإن لم تجز أضحيته ابتداء.(البناية شرح الهداية، كتاب الأضحية، ج:11، ص:20)

(وإن) (مات أحد السبعة) المشتركين في البدنة (وقال الورثة اذبحوا عنه وعنكم) (صح) عن الكل استحسانا لقصد القربة من الكل، ولو ذبحوها بلا إذن الورثة لم يجزه. (الدر المختار على صدر رد المحتار، كتاب الأضحيةُ، ج:7، ص:471)

ويقسم اللحم وزنا لا جزافا إلا إذا ضم معه الأكارع أو الجلد) صرفا للجنس لخلاف جنسه. (الدر المختار على صدر رد المحتار، كتاب الأضحية، ج:9، ص،460)


فتویٰ نمبر : 8924/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں