بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 21/10/2026

دارالافتاء

 

آٹھ سو آبادی والے گاؤں میں نماز جمعہ


سوال

 ہم ایک چھوٹے سے گاؤں میں رہتےہیں جس کی کل آبادی تقريبا آٹھ  سو(800) ہوگی چار (4) چھوٹى چھوٹى دوکانیں  ہیں اس کے علاوہ اور کوئی خاص سہولت میسر نہیں ۔کیا  ہمارے گاؤں میں جمعہ کی نماز پڑھنا جائز ہے؟

جواب

             نماز جمعہ کے وجوب ادا کی شرائط میں سے ایک شرط یہ ہے کہ  وہ جگہ شہر ہو یا توابع شہر میں سے ہو یا بڑا گاؤں ہو ۔شہر  کی تعریف فقہائے کرام نے اپنے اپنے وقت كےحالات کے مطابق مختلف عبارات سے کی ہے ۔ موجودہ دور میں جس گاؤں کی آبادی دو ڈھائی ہزار افراد پر مشتمل ہو اور روز مرہ کی ضروریات اس میں میسر ہوں وہ بڑا گاؤں شمار ہوگا ۔  

        صورت مسئولہ کے مطابق  اگرمذکورہ علاقہ کی آبادی صرف آٹھ سوافراد پر مشتمل ہو  تو اس میں نماز جمعہ پڑهنا جائز نہیں۔

 

(ويشترط لصحتها)سبعة أشياء الأول(المصر...(أوفناؤه)بكسرالفاء(وهوما)حوله(إتصل به)أولا(لأجل مصالحه)كدفن الموتى وركض الخيل ۔۔۔( الدر المختار ، کتاب الصلوة ، باب الجمعة ، ج :1، ص: 109)

وعبارة القهستاني: تقع فرضا في القصبات والقرى الكبيرة التي فيها أسواق۔(ردالمحتار على الدر المختار، كتاب الصلاة، باب الجمعة،ج:3 ص6:، دار الكتب العلمية بيروت لبنان)


فتویٰ نمبر : 8921/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں