بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

آیاتِ قرآنیہ کے عکس پر گزرنا


سوال

 شیشے کے دروازے پر"رب زدني علما " لکھا ہو اور اس کا عکس سورج کی روشنی میں  زمین پر پڑے اور وہاں سے لوگ گزررہے ہوں ، تواس کا کیا حکم ہے؟

جواب

          واضح رہے کہ مقدس ناموں، آیاتِ قرآنیہ اور کلماتِ طیبہ کا ادب واحترام کرنا اور ان کی بے ادبی و تحقیر سے خود کو بچانا ہر مسلمان کا دینی واخلاقی فريضہ ہے ۔ کسی مسلمان کے شایانِ شان نہیں کہ وہ مقدس کلمات ، آیاتِ قرآنیہ وغیرہ کی تحقیر اور بے ادبی کرے، چنانچہ فقہائے کرامؒ نے ایسے مقامات پر آیاتِ قرآنیہ، کلماتِ طیبہ وغیرہ لکھنے کی ممانعت فرمائی ہے جہاں پر بے ادبی کا شائبہ ہو۔البتہ اگر کہیں دیواروں وغیرہ پر آیات یا دعائیں لکھی گئی ہوں اور اس کے عکس سورج کی روشنی کی وجہ سے زمین پر پڑے، تو اس میں چونکہ بے ادبی کا شائبہ نہیں ، کیونکہ عکس میں ایسے حروف موجود نہیں ہوتے جن کے لیے ثبات و  دوام  اور اپنا کوئی مستقل وجود ہو بلکہ یہ درحقیقت شعاعیں ہوتی ہیں جو زمین پر پڑتی ہیں،اس لیے یہ آیاتِ قرآنی کے حکم میں نہیں ۔ لہذا اس  پر سے لوگوں کے گزرنے میں فی نفسہ کوئی حرج نہیں  ۔تاہم کسی شخص کا یہ ادب قابلِ تحسین ضرور ہے کہ زمین پر آیاتِ مبارکہ کے عکس نظر آنے کی صورت میں اس پر گزرنے سے احتراز کرے۔

 

وليس بمستحسن كتابة القرآن على المحاريب والجدران لما يخاف من سقوط الكتابة وأن توطأ وفي جمع النسفي مصلى أو بساط فيه أسماء الله تعالى يكره بسطه واستعماله في شيء۔۔۔وكذا يكره كتابة الرقاع وإلصاقها بالأبواب لما فيه من الإهانة.(الفتاوى الهندية ، كتاب الصلوة ، الباب السابع فيما يفسد الصلاة وما يكره فيها، ج: 1 ص: 114)

ويكره أن يجعل شيئا في كاغدة فيها اسم الله تعالى كانت الكتابة على ظاهرها أو باطنها۔ (الفتاوى الهندية ، كتاب الكراهية ، الباب الخاوس في آداب المسجد ، ج: 5 ص: 312)


فتویٰ نمبر : 4804/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں