بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 27/10/2026 |
دارالافتاء
نامرد(عنین ) شوہر سے خلاصی کا طریقہ اور اس صورت میں مہر
سوال
شادی کے چند ماہ بعد ایک لڑکی نے دعوی کیا کہ لڑکا عنین ہے اور حقوقِ زوجیت کی ادائیگی سے قاصر ہے ، جبکہ لڑکا اس سےمنکر ہے،تو ایسی صورت میں عورت کی خلاصی کی کیا صورت ہوگی ۔اسی طرح لڑکی شوہر سے مہر کا مطالبہ کرتی ہے شوہر مہر کی ادائیگی سے منکر ہے،تو کیا ان کے مابین تفریق کی صورت میں بیوی مہر کااستحقاق رکھتی ہے یا نہیں؟
جواب
فقہائے کرام کی عبارات سے معلوم ہوتا ہے کہ عنین (نامرد) سے مراد وہ شخص ہے جو عضو مخصوص رکھنے کے باوجود بیوی سے ہمبستری کرنے پر قادر نہ ہو ۔عنین کی بیوی کے لیے اس سے خلاصی کی صورت یہ ہے کہ اول تو شوہر کو طلاق دینے پر آمادہ کیا جائے، لیکن اگر شوہر طلاق دینے کے لیے تیار نہ ہو تو عورت اپنا معاملہ مسلمان قاضی کی عدالت میں پیش کرے کہ میرا شوہر عنین ہے اور آج تک اس نے ایک مرتبہ بھی میرا حق ادا نہیں کیا اس لیے میں اس کے ساتھ رہنا نہیں چاہتی ، چنانچہ مجھے اس کے نکاح سے علیحدہ کردیا جائے ۔قاضی پہلے شوہر سے اس بات کی تحقیق کرے (1)اگر شوہر اقرار کرے کہ وہ ایک دفعہ بھی بیوی سے ہمبستری نہیں کرسکا تو قاضی اس کو علاج کے لیے ایک سال کی مہلت دے گا ،اگر سال بھر کے علاج سے وہ ایک مرتبہ بھی بیو ی سے ہمبستری پر قادر ہوجائے تو عورت کا حق فسخ ختم ہوجائے گا جس کے بعد وہ علیحدگی کا مطالبہ نہیں کرسکتی ،البتہ اگر اس مدت میں شوہر ایک مرتبہ بھی جماع نہ کرسکے ،تو عورت کے دوبارہ درخواست پر قاضی تحقیق کرے گا اگر واقعی شوہر جماع کا قابل نہ ہو تو اس سے کہا جائے گا کہ عورت کو طلاق دے دو، اگر وہ طلاق دینے سے انکار کرے تو قاضی خود ان کے مابین تفریق کرے گا ۔
(2)البتہ اگر قاضی کے دریافت کرنے پر شوہر عورت کے دعوی کی تکذیب کرتے ہوئےاس بات سے انکار کردے کہ وہ عنین ہے اور یہ دعوی کرے کہ اس نے بیوی سے ہمبستری کی ہوئی ہے تو قاضی عورت سے یہ معلوم کرلے گا کہ وہ باکرہ ہے یا ثیبہ ہے ؟ اگر عورت یہ دعوی کرے وہ کہ وہ باکرہ ہے تو قاضی دو تجربہ کار خواتین ڈاکٹر سے اس کا معائنہ کروائے گا اگر وہ یہ رپورٹ پیش کریں کہ یہ باکرہ ہےتو پھر قاضی شوہر کو ایک سال تک علاج کی مہلت دے گا ، تاہم اگر وہ دو عورتیں یہ کہیں کہ یہ باکرہ نہیں ثیبہ ہے ، تو قاضی شوہر سے قسم لے کہ اس نے شادی کے بعد کم از کم ایک مرتبہ اس سے ہمبستری کی ہے،اگر شوہر قسم اٹھالے تو بیوی کا حق تفریق اور فسخ ختم ہوجائے گا اور اگر شوہر قسم سے انکا رکرے تو قاضی اس کو ایک سال تک علاج کی مہلت دے گا ، سال بھر کے علاج کے بعد جب عورت دوبارہ قاضی کی عدالت میں مقدمہ دائر کرکے دعوی کرے کہ شوہر اس مدت میں ایک مرتبہ بھی اس سے جماع کرنے پر قادر نہیں ہوا تو اگر شوہر بیوی کے دعوی کی تصدیق کرے تو بیوی کے مطالبہ پر قاضی شوہر کو طلاق دینے کا حکم دے گا اور طلاق دینے سے انکا ر کی صورت میں قاضی خود تفریق کرے گا ، لیکن اگر شوہر عورت کی تصدیق نہ کرے بلکہ یہ دعوی کرے کہ ایک سال کی اس مہلت کے اندر وہ ایک دفعہ ہمبستری کرچکا ہے تو ایسی صورت میں اگر دوبارہ رپورٹ سے عورت کا باکرہ ہونا ثابت ہوجائے تو قاضی شوہر سے عورت کو طلاق دلوائے گا اگر شوہر انکار کرے توخود ان کے مابین تفریق کرے گا ۔تاہم اگر دوبارہ معائنہ کرنے سےعورت کا ثیبہ ہونا ثابت ہو تو قاضی شوہر سے قسم لے گا اگر قسم اٹھائےتو اس کا قول معتبر ہوگا اور اگر قسم سے انکار کرے تو قاضی اس سے عورت کو طلاق دلوائے گا اگر طلاق نہ دے تو قاضی خود تفریق کرے گا۔
جہاں تک مہر کا حکم ہے تو واضح رہےکہ مہر بیوی کاحق ہے جو شوہرپر نکاح کے وقت واجب ہوجاتاہے ، نکاح کرنے کے بعد اگر شوہر بیوی کے ساتھ جماع کرے یا اس سے صرف خلوت صحیحہ کرے ، یعنی ایسی ملاقات کرے جس میں جماع کرنے سے شرعی، حسی اور طبعی کوئی مانع موجود نہ ہو تو اس کی وجہ سے شوہر پر پورے مہر کی ادئیگی لاز م ہو جاتی ہے ، اگر چہ شوہر اس کے بعد طلاق دے دےیا دونوں کے مابین تفریق ہوجائے۔لہذا مذکورہ صورت میں شوہر کے ذمے پورے مہر کی ادائیگی لازم ہے اگر چہ ان کے درمیان تفریق واقع ہوجائے ، کیونکہ یہاں پر خلوت صحیحہ پائے جانے کی وجہ سے شوہر کے ذمے پورے مہر کی ادئیگی لاز م ہے۔
ولو اختلف الزوج والمرأة في الوصول إليها فإن كانت ثيبا فالقول قوله مع يمينه لأنه ينكر استحقاق حق الفرقة والأصل هو السلامة في الجبلة ثم إن حلف بطل حقها وإن نكل يؤجل سنة وإن كانت بكرا نظر إليها النساء فإن قلن هي بكر أجلسنة لظهور كذبه وإن قلن هي ثيب يحلف الزوج فإن حلف لا حق لها وإن نكل يؤجل سنة۔(الهداية ، كتاب الطلاق ، باب العنين ، ج: 2 ص: 421)
إذا رفعت المرأة زوجها إلى القاضي وادعت أنه عنين وطلبت الفرقة فإن القاضي يسأله هل وصل إليها أو لم يصل فإن أقر أنه لم يصل أجله سنة سواء كانت المرأة بكرا أم ثيبا وإن أنكر وادعى الوصول إليها فإن كانت المرأة ثيبا فالقول قوله مع يمينه أنه وصل إليها كذا في البدائع فإن حلف بطل حقها وإن نكل يؤجل سنة كذا في الكافي وإن قالت أنا بكر نظر إليها النساء وامرأة تجزئ والاثنتان أحوط وأوثق فإن قلن إنها ثيب فالقول قول الزوج مع يمينه كذا في السراج الوهاج فإن حلف لا حق لها وإن نكل يؤجله سنة كذا في الهداية وإن قلن هي بكر فالقول قولها من غير يمين۔(الفتاوى الهندية ، كتاب الطلاق ، الباب الثاني عشر في العنين ، ج: 1 ص: 576)
( والخلوة بلا مانع حسي وطبعي وشرعي ۔۔۔ ولو مجبوبا أو عنينا أو خصيا في ثبوت النسب المجبوب و تأكد المهر )۔(تنويرالأبصار على صدر ردالمحتار ، كتاب النكاح ، باب المهر ، ج: 4 ص: 249/255)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 330
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 247
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 903
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 456
- کتاب الصوم | فتاوئ : 91
- کتاب الحج | فتاوئ : 113
- کتاب النکاح | فتاوئ : 577
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 497
- خلع | فتاوئ : 50
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 7
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 60
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 88
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 478
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 103
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 78
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 82
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 22
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 177
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 413
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 22
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 32
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 8
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 199
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 154
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 63
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 43
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 325
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1201
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 34
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 389
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں