بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

اگلی صف سے مقتدی کھینچنا


سوال

ایک حنفی المسلک شخص اگلی صف میں کھڑاتھااور حنبلی المسلک شخص آگیا اورپیچھے صف میں دوسراکوئی نہیں تھاتواس نے حنفی المسلک شخص کو کھینچا اور اپنے ساتھ کھڑا کیا ،اب اس فعل کی وجہ سے حنفی المسلک شخص کی نماز پر کوئی فرق پڑتا ہے یا نہیں؟کیونکہ حنفی المسلک شخص کی یہ حرکت  تصحیح صلوۃ کے لیے نہیں تھی  بلکہ حنبلی المسلک شخص کے لیے تھی؟

جواب

        فقہائے کرامؒ فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص دوران جماعت آئے اور پہلی صف میں جگہ نہ ہو اور دوسری صف میں اس کے علاوہ کوئی دوسرا نمازی نہ ہوتو یہ شخص امام کے رکوع میں جانے تک دوسرے نمازی کے آنے  کاانتظار کرے،اگر کوئی نہ آئے تو اگلے صف سے کسی ایسے مقتدی کو کھینچ کر ساتھ کھڑا کردے ، جواس مسئلہ کو جانتا ہو،لیکن اگر اس مسئلہ کوجاننے والا کوئی شخص نظر نہ آئے  توپھرتنہا صف میں کھڑا ہو کر اقتدا کرے۔

          صورت مسؤلہ کے مطابق اگرحنبلی المسلک شخص  حنفی المسلک شخص کو کھینچ کر پچھلی صف میں اپنے ساتھ کھڑا کرے تواس سے حنفی المسلک شخص کی نماز پر کوئی فرق نہیں پڑتا ۔

 

قال عليه الصلاة والسلام "توسطوا الإمام وسدوا الخلل" ومتى استوى جانباه يقوم عن يمين الإمام إن أمكنه وإن وجد في الصف فرجة سدها وإلا انتظر حتى يجيء آخر فيقفان خلفه وإن لم يجيء حتى ركع الإمام يختار أعلم الناس بهذه المسألة فيجذبه ويقفان خلفه ولو لم يجد عالما يقف خلف الصف بحذاء الإمام للضرورة ولو وقف منفردا بغير عذر تصح صلاته عندنا۔(ردالمحتار،كتاب الصلاة،باب الإمامة، مطلب هل الإساءة دون الكراهة أو أفحش منها،ج:2،ص:310)


فتویٰ نمبر : 8918/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں