بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/10/2026

دارالافتاء

 

گولی مار جانے سے معیوب ہونے والے جانور کی قربانی


سوال

اگر کسی سے قربانی کا جانور بھاگ جائے اور وہ اس پر بندوق سے گولی چلائے جس کی وجہ سے قربانی کا جانور عیب دار ہوجائے،  حالانکہ حالتِ اضطراری نہ ہو تو کیا اس جانور کی قربانی جائز ہے؟

جواب

            واضح رہے کہ  قربانی سے مانع کوئی عیب جب ذبح کے وقت پیدا ہوجائے، مثلاً: جانور کے گرانے میں اس کا پاؤں ٹوٹ جائے یا ذبح کرتے وقت چھری سے اس کی آنکھ پھوٹ جائے تو ان عیوب کے باوجود اس کی قربانی صحیح ہوگی، کیونکہ یہ ایسے عیوب ہیں کہ عموما ذبح کے وقت  اس سے احتراز مشکل ہے۔ اسی طرح اگر جانور بدک  کر  قابو سے باہر ہوجائے اور اس کو قابو کرنے کے لیے گولی سےمارا جائے تو اس سے پیدا ہونے والا عیب بھی ذبح کے وقت پیدا ہونے والا عیب شمار ہوکر اس کے ہوتے ہوئے قربانی جائز ہوگی۔ تاہم اگر جانور کو قابو کرنا مشکل نہ ہو بلکہ آسانی سے اسے قابو کیا جاسکتا ہو  مگر پھر بھی اس پر گولی چلا کر اسے  مارا جائے تو اس سے پیدا ہونے والے عیب کے ہوتے ہوئے قربانی جائز نہ ہوگی۔

 

ولو قدم أضحية ليذبحها فاضطربت في المكان الذي يذبحها فيه فانكسرت رجلها ثم ذبحها على مكانها أجزأه وكذلك إن انفلتت عنه البقرة فأصيبت عينها فذهبت والقياس أن لا تجوز وجه القياس أن هذا عيب دخلها قبل تعيين القربة بها فصار كما لو كان قبل حال الذبح وجه الاستحسان أن هذا مما لا يمكن الاحتراز عنه لأن الشاة تضطرب فتلحقها العيوب من اضطرابها وروي عن أبي يوسف رحمه الله تعالى أنه قال لو عالج أضحية ليذبحها فكسرها أو اعورت فذبحها ذلك اليوم أو من الغد فإنها تجزي۔(الفتاوى الهندية، كتاب الأضحية، الباب الخامس في بيان محل إقامت الواجب، ج:5، ص:345)

ولو ذهب عينها الواحدة أو انكسر رجلها في معالجة الذبح بأن انفلتت الشفرة فعورتها ينظر إن لم يرسلها جاز وإن ضحى بعد ما أرسلها في وقت آخر في يومه ذلك وفي أيام النحر لم يذكر هذا الفصل في الأصل، وروي عن أبي يوسف أنه تجوز به أخذ الزعفراني وفي الحاوي وإن أصاب ذلك من غير معالجة لاتجوز۔(الفتاوى التاتارخانية، كتاب الأضحية، الفصل الخامس في بيان ما يجوز من الضحايا ومالا يجوز، ج:17، ص:433)


فتویٰ نمبر : 8915/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں