بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

صوم ِعلی کاحکم


سوال

 ہمارے علاقے میں جب کوئی مصیبت اور پریشانی  پیش آتی ہے تو بعض لوگ صومِ علی کے نام سے تین  اور کبھی سات دن تک مسلسل روزہ رکھتے ہیں ۔اس کا طریقہ یہ ہے کہ سحری اور افطاری میں نہ روٹی کھاتے ہیں اور نہ پانی پیتے ہیں صرف اتنا کرتے ہیں کہ جو کا ایک دانہ اور ایک قطرہ پانی زبان پر ڈالتے ہیں یہ ان کی سحری اور افطاری ہوتی ہے ۔اب سوال یہ ہے کہ  کیا اس قسم کےروزوں کا   شرعاً ثبوت ہے یا نہیں؟

جواب

          واضح رہے کہ نفلی روزے رکھنا باعثِ اجر و ثواب اور تقربِ الہی کا ذریعہ ہے ۔البتہ صومِ علی کے نام سے مخصوص و متعین اوقات میں تین یا سات دن تک مسلسل روزوں کے  اہتمام کا شرعاً کوئی ثبوت نہیں ۔اسی طرح اس میں   سحری اور افطاری باقاعدہ طور پر کرنے کی بجائے فقط جو کے ایک دانہ یا پانی کے ایک قطرہ پر اکتفا کرنا  خود کو بلاوجہ مشقت وحرج میں مبتلا کرنا ہے ،جس کی شرعاً گنجائش نہیں ،چنانچہ اسی وجہ سے نبی کریمﷺ نے صومِ وصال سے منع فرمایا ہے ، لہذا صومِ علی کے نام سے مخصوص اوقات میں اس مخصوص کیفیت کے ساتھ روزوں سے اجتناب کرنا لازم ہے۔

 

قال الله تعالى:﴿وَلَا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَة﴾(البقرة:195)

عن ابن عمر رضي الله عنهما، أن النبي صلى الله عليه وسلم، نهى عن الوصال، قالوا: إنك تواصل، قال: «إني لست كهيئتكم إني أطعم وأسقى»۔(الصحيح لمسلم ، كتاب الصوم ، باب النهي عن الوصال في الصوم ، ج: 3 ص: 500 ، مكتبة البشرى)

وكل مباح يؤدي إليه فمكروه۔(الدرالمختار ، كتاب الصلاة ، باب سجود التلاوة ، ج: 2 ص: 598)


فتویٰ نمبر : 4797/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں