بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 23/10/2026

دارالافتاء

 

میڈیکوز والوں کا الٹراساؤنڈ والوں سے کمیشن لینا


سوال

میرا ایک الٹراساؤنڈ کامشین ہے، ہمارے پاس میڈیکوز والے  ٹیسٹ کروانے کے لیے بیمار لے آتےہیں ، اور ہم الٹراساونڈ کرنے کے600 سو روپے مریض سے لیتے ہیں اور  میڈیکوز والے ہم سے 300 روپے کمیشن لیتے ہیں  کیا یہ جائز ہے یانہیں؟

جواب

                واضح رہے کہ جب کوئی شخص دکاندار کے لیے کوئی گاہک مہیا کرتا ہے تواس میں اس شخص کی حیثیت دلال کی طرح ہے اور دلال کی اجرت کو فقہائے کرام ؒ  نے جائز قرار دیاہے۔

                صورت مسئو لہ میں اگر  کوئی میڈیکوز والا دکاندار  کسی مریض کو اس کی  رضامندی کے ساتھ کسی لیباٹری یا  الٹراساؤنڈوالے کے پاس لے جاتا ہوتواس صورت میں چونکہ یہ دلال ہے اس لیے اس کا کمیشن لیناجائز ہے  بشرطیکہ کمیشن پہلے سے متعین ہو اور وہ مریض کو ایسے با اعتمادالٹرساؤنڈ والے کے پاس لے جاتاہو جہاں نہ الٹرساؤنڈ  میں کوئی کوتاہی کی جاتی ہو اور نہ ہی وہ الٹرساؤنڈ والے مروجہ  قیمت سے زیادہ پیسے وصول کرتے ہوں۔

 

وفي الحاوي سئل محمد بن سلمة عن أجرة السمسار فقال أرجو أنه لا بأس به وإن كان في الأصل فاسدا لكثرة التعامل وكثير من هذا غير جائز فجوزوه لحاجة الناس إليه۔(ردالمحتار على الدرالمختار، باب ضمان الأجير، ج:9، ص:87)


فتویٰ نمبر : 2895/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں