بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/10/2026

دارالافتاء

 

حادثاتی موت میں پسماندہ گان کوملنے والی رقم کی تقسیم


سوال

مرحوم (محمد بلال )حادثاتی طور گھڑے میں گر کر فوت ہوا تھا۔جس کی وجہ سے حکومت نے مرحوم کے والدین کے لیے تین لاکھ گرانٹ کا عطیہ منظور کر لیا ہے۔اب معلوم یہ کرنا ہے کہ مذکورہ تین لاکھ روپے متوفی کے ورثا والد(عبداللہ)، والدہ (عمیرہ)، اور بہن (ایمان) میں کس کو اور کتنا ملے گا؟

جواب

         واضح رہے کہ حادثاتی طور پر موت واقع ہونے کی صورت میں پسماندہ گان کوحکومت یا کسی ادارے کی طرف سےملنے والی رقم عطیہ اور تبرع شمار ہوتی ہے۔اس لیے حکومت یا اسی ادارہ  کے قانون کے مطابق جس کوجتنی رقم کا مستحق قرار دیا جائے اس حساب سے یہ رقم تقسیم ہوگی۔اس میں وراثت جاری نہ ہوگی۔لہذا صورت مسئولہ میں  متوفی کے حادثاتی موت کے بعد اس کے والدین کے لیے منظور ہونے والی رقم حکومت کی طرف سے عطیہ ہے۔لہذا متعلقہ ادارہ کے ذمہ دار افسران سے معلوم کرکے ان کی پالیسی کے مطابق اسے تقسیم کیا جائےگا۔

 

"العطاء لایورث عنه"(شرح الأشباہ والنظائر، ج:2، ص:495،)

"الترکة فی اللإصطلاح ما تركه الميت من الأموال صافيا عن تعلق حق الغير بعين من الأموال"(ردالمحتار علی الدرالمختار، کتاب الفرائض، ج:10، ص:493،)


فتویٰ نمبر : 4795/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں