بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 28/10/2026 |
دارالافتاء
شرکت کا معاہدہ کرنے کے بعد کسی شریک کا اپنے لیے زمین خریدنے کا دعوی کرنا
سوال
دو آدمیوں نے ایک دوسرے کے ساتھ یہ وعدہ کیا کہ دونوں مشترکہ طور پر زمین خرید یں گے۔پھر ایک شخص نے دوسرے کی غیر موجودگی میں اکیلے وہ زمین خرید لی اور اس ساتھی کو نہیں بتایا۔ اب دوسرا شخص یہ دعویٰ کرتا ہے کہ اس میں میرا حق بھی ہے ، کیونکہ آپ نے میرے ساتھ وعدہ کیا تھا، جب کہ پہلا شخص کہتا ہے کہ میں نے اپنے پیسوں سے زمین خریدی ہے آپ کا اس میں حق نہیں بنتا۔ کیا اس دوسرے شخص کا حق بنتا ہے یا نہیں؟
جواب
واضح رہے کہ دو آدمیوں کا آپس میں کسی چیز کو مشترکہ طور پر خریدنےکا وعدہ کرنے کے بعد اس کی پاسداری کرنا شرعا دونوں پر لازم ہے اور اس معاہدہ کی خلاف ورزی کرنا جائز نہیں ۔ تاہم اگر کوئی اس معاہدہ کی خلاف ورزی کر کے اس چیز کواکیلے اپنے لیے خرید لے اور دوسرے کو اس میں شریک نہ کرے تو وہ معاہدہ کی خلاف ورزی کی وجہ سے گناہ گار تو ہو گا، لیکن وہ چیز اس کی ذاتی ملکیت شمار ہوگی۔
لہذا صورتِ مسئولہ میں مشترکہ طور پر زمین خریدنے کا وعدہ کرنے کے بعد اگر کسی ایک نے اپنے لیے زمین خرید لی اور دوسرے کو اپنے ساتھ شریک نہیں کیا تو اس میں دوسرے شخص کا اس کے ساتھ شرکت کا حق نہیں بنتا۔ تاہم معاہدہ کی خلاف ورزی سے بچنے کے لیے اس کو چاہیے کہ دوسرے کو اس میں شریک کردے ۔
قال اللہ تعالی:﴿وَأَوْفُوا بِالْعَهْدِ إِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْئُولًا﴾۔(الإسراء:34)
( سئل ) فيما إذا وعد زيد عمرا أن يعطيه غلال أرضه الفلانية فاستغلها وامتنع من أن يعطيه من الغلة شيئا فهل يلزم زيدا شيء بمجرد الوعد المزبور ؟ ( الجواب ) : لا يلزمه الوفاء بوعده شرعا وإن وفى فبها ونعمت۔(تنقيح الفتاوى الحامدية، مسائل فوائد شتى من الحظر والإباحة وغير ذلك، ج:2، ص:352)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 331
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 248
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 907
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 458
- کتاب الصوم | فتاوئ : 91
- کتاب الحج | فتاوئ : 113
- کتاب النکاح | فتاوئ : 578
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 499
- خلع | فتاوئ : 50
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 7
-
نفقات | فتاوئ : 34
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 60
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 88
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 479
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 103
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 78
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 83
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 22
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 177
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 413
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 22
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 32
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 8
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 199
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 154
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 64
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 43
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 328
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1203
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 34
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 391
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں