بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

شریک کی موت کے بعد تقسیم میں غلطی کا دعوی کرنا


سوال

 اگر چند بھائی مشترکہ طور پر زمین خرید لیں اور تقسیم کے وقت  سب کی رضامندی سےبعض بھائیوں کو زیادہ حصہ دیا جائےاور پھر  عرصہ دراز گزرجائے اورکچھ  بھائیوں کی موت بھی واقع ہوجائے تو کیا اس  کے بعد دیگر بھائی ان کے بیٹوں پر تقسیم میں غلطی کا دعوی کرسکتے  ہیں یا نہیں؟

جواب

            شرعی نقطہ نظر سے شرکا کا باہمی رضامندی سے تقسیم کرنا جائز ہے اور اس تقسیم میں اگر شرکا کسی شریک کو  اس  کے حصے سے زائد حصہ د ےدیں تو یہ ان کی طرف  تبرع اورا حسان شمار ہوکرتقسیم نافذ ہوگی ۔ نیز تقسیم کے بعد  اگر کوئی شریک فوت ہوجائے تو دوسرے شرکا کا تقسیم میں  غلطی کا دعوی کرنے  کا حق ختم ہوجاتا ہے۔

            لہذا صورتِ مسئولہ میں اگر تقسیم کے وقت بعض بھائیوں  کو ان کے حصے سے زیادہ حصہ دیا  گیاہواور ان کی زندگی میں دیگر بھائیوں نے کوئی دعوی نہ کیا  ہوتو اب ان کی وفات کے بعد ان کے بیٹوں پر دعویٰ کرنا شرعا  درست نہیں۔

 

وإذا كانت الدار بين رجلين اقتسماها أخذ أحدهما قدر النصف وأخذ الآخر قدر الثلث ورفعا طريقا بينهما قدر السدس فذلك جائز۔(الفتاوى الهندية، كتاب القسمة، الباب الثالث في بيان ما يقسم وما لايقسم، ج:5، ص: 248)

رجل تصرف زمانا في أرض و رجل آخر رأى الأرض والتصرف ولم يدع ومات على ذلك لم تسمع بعد ذلك دعوى ولده فتترك في يد المتصرف۔(تنقيح الفتاوى الحامدية، كتاب الدعوى، ج:2، ص:15)


فتویٰ نمبر : 2890/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں