بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 20/10/2026

دارالافتاء

 

نسوار كا كاروبار كرنا


سوال

 موجودہ  دور میں بعض لوگ نسوار کا کاروبار کرتے  ہیں اس کاروبار کی کمائی  کا  کیا حکم ہے؟اسی طرح اگر  ایک ملک میں  اس کاروبار     پر پابندی ہو لیکن  با وجود پابندی کےکوئی  یہ کاروبار کرتا ہو  تو  اس کمائی کا کیا حکم ہے؟

جواب

           واضح رہے کہ نسوار میں تمباکو ہوتا ہے   اور تمباکو نباتات کی ایک قسم ہے اکثر علمائے کرام کے ہاں دیگر نباتات کی طرح اس کی کاشت اور خریدوفروخت بھی جائز ہے ۔

          صورت مسئولہ کے مطابق نسوار کے کاروبار سے حاصل شدہ منافع حلال ہیں۔تا ہم  اگر کسی ملک میں تمباکو یا نسوار کی خریدوفروخت  قانونا  ممنوع ہو  تو چونکہ مفاد عامہ کے لیے یہ قانون بنایا جاتا ہے  اس لیے وہاں اس کا کاروبار شرعا بھی ممنوع ہوگا البتہ اگر کسی نےاس  کا کاروبار کرکے منافع حاصل کر لیے تو منافع  کوحرام نہیں کہا جا سکتا۔

 

وللعلامة الشيخ علي الأجهوري المالكي رسالة في حله نقل فيها أنه أفتى بحله من يعتمد عليه من أئمة المذاهب الأربعة.

قلت: وألف في حله أيضا سيدنا العارف عبد الغني النابلسي رسالة ۔ ۔ ۔ فالذي ينبغي للإنسان إذا سئل عنه  ۔ ۔ ۔ أن يقول هو مباح، لكن رائحته تستكرهها الطباع؛ فهو مكروه طبعا لا شرعا۔(ردالمحتارعلی الدرالمختار، كتاب الأشربة،ج:10،ص:36)

أن صاحب البحر ذكر ناقلا عن أئمتنا أن طاعة الإمام في غير معصية واجبة فلو أمر بصوم وجب۔( ردالمحتارعلی الدرالمختار،كتاب القضاء،مطلب طاعةالإمام واجبة،ج:8،ص:118)


فتویٰ نمبر : 2888/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں