بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 23/10/2026

دارالافتاء

 

مرد کی لیے انگوٹھی پہننا اور اس میں فیروزہ یا دیگر قیمتی پتھروں کا استعمال


سوال

1۔ مرد کے لیے انگوٹھی کا استعمال شرعاکیسا ہے؟ اور انگوٹھی میں چاندی کی مقدار کتنی ہونی چاہئے؟2۔انگوٹھی میں قیمتی پتھر مثلا یاقوت  وغیرہ کا استعمال کرنا جائز ہے یا نہیں؟3۔فیروزہ کے پتھر کے بارے میں لوگ کہتے ہیں کہ یہ چونکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے قاتل فیروز ابولؤلؤ کی منسوب ہے اس لیے اس کا استعمال جائز نہیں ، کیا یہ بات درست ہے؟

جواب

1۔مرد کی لیے صرف چاندی کی انگوٹھی پہننا جائز ہے جس میں چاندی کی مقدار زیادہ سے زیادہ ساڑھے چار  ماشے ہو۔ اس کے علاوہ مرد کی لیے دیگر دهاتوں مثلا سونے، لوہے اور پیتل وغیرہ کی انگوٹھی کا استعمال ناجائز ہے۔

2۔فقہائے کرام کی عبارات سے معلوم ہوتا ہے کہ انگوٹھی میں اعتبار حلقے کا  ہے نہ کہ نگینےکا اس لیے اگر انگوٹھی کا حلقہ چاندی کا ہو تو اس کے نگینے میں قیمتی پتھر مثلا  یاقوت  وغیرہ کا استعمال جائز ہے۔

3۔فیروزہ  دیگر پتھروں کی طرح ایک قیمتی پتھر ہے جو مختلف ممالک میں پایا جاتا ہے انگوٹھی میں بطور نگینہ  اس کااستعمال  بھی دیگر پتھروں کی طرح جائز ہے ۔اور اس بات کا کوئی ثبوت ہمیں نہیں مل سکا کہ فیروز ابو لؤلؤ کی طرف منسوب  ہونے کی وجہ  سے یہ حرام ہے۔

 

(ولا يتحلى) الرجل (بذهب وفضة) مطلقا (إلا بخاتم ومنطقة وحلية سيف منها) أي الفضة إذا لم يرد به التزين. (ولا يتختم بغيرها كحجر وذهب وحديد وصفر) ولا يزيده على مثقال۔ (الدر المختار علی صدر رد المحتار، کتاب الحظر والإباحة، ج:9، ص:516)

ذكر في الجامع الصغير وينبغي أن تكون فضة الخاتم المثقال، ولا يزاد عليه. (الفتاوى الهندية، كتاب الكراهية، الباب العاشر:في استعمال الذهب والفضة، ج:5، ص: 389)

(والعبرة بالحلقة) من الفضة (لا بالفص) فيجوز من حجر وعقيق وياقوت وغيرها۔ (الدر المختار علی صدر رد المحتار، کتاب الحظر والإباحة، ج:9، ص:519)

لا بأس للرجل أن يتخذ خاتما من فضة فصه منه، وإن جعل فصه من جزع أو عقيق أو فيروزج أو ياقوت أو زمرد فلا بأس. (حاشية الشيخ الشلبي على تبيين الحقائق، كتاب الكراهية، فصل في اللبس، ج:7، ص:315)


فتویٰ نمبر : 4793/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں