بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/10/2026

دارالافتاء

 

نفع کاپچاس فی صدکرایہ مقررکرنا


سوال

ایک شخص نےاپنی دکان لیبارٹری والوں کودی ہے،اور ان سےیہ عقدکیاہےکہ میں آپ کےساتھ شریک ہوں گا،اورآپ مجھےحاصل شدہ نفع کاپچاس فی صددیں گے،تو کیامعاملہ شرعاجائزہے،اوراگرجائزنہ ہوتوجوازکاطریقۂ کاربتائیں؟

جواب

           شریعتِ مطہرہ کی روسےاجارہ کےمعاملات میں اجرت،منفعت اورمدتِ اجارہ کامتعین کرنالازمی ہے،چنانچہ جس معاملہ میں ان امورکی تعیین نہ کی جائے،وہ فاسدہوجاتاہے۔

           صورتِ مسؤلہ کےمطابق اگرایک شخص نےاپنی دکان لیبارٹری والوں کودی ہو،اوران کےساتھ یہ عقدکیاہوکہ آپ میری دکان میں لیبارٹری چلائیں گے،اور مجھےنفع کاپچاس فی صددیں گے،تواس معاملہ میں چونکہ اجرت مجہول ہے،اس لیے یہ معاملہ جائزنہیں،اس کے جوازکی صورت یہ ہے کہ باہمی رضامندی سےروزانہ یاماہانہ کےحساب سےمخصوص رقم بطورکرایہ متعین کردیں اورمدت بھی متعین کردی جائے،تاکہ بعدمیں نزاع کاخدشہ باقی نہ رہے۔

 

ولا تصح حتى تكون المنافع معلومة والأجرة معلومة لما روينا ولأن الجهالة في المعقود عليه وفي بدله تفضي إلى المنازعة كجهالة الثمن والمثمن في البيع(الھدایة،کتاب الإجارۃ،باب فی تعریف الإجارۃ،ج3ص296)

یشترط أن تکون الأجرۃ معلومة،سواء کان من المثلیات أومن القیمیات،أوکانت منفعة أخری؛لأن الجھالة تفضی إلی المنازعة(شرح المجلة لسلیم رستم باز،المادۃ:450،ص254)

 


فتویٰ نمبر : 2891/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں