بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 16/08/2026

دارالافتاء

 

طلاق نامہ لکھ کر پھر اس کو پھاڑنے سے طلاق کاحکم


سوال

ایک شخص نے بیوی کے غیر موجودگی میں ایک سادہ کاغذ پر طلاق کی نیت سے یہ الفاظ لکھےہیں کہ "میں اپنی بیوی کو تین طلاق دیتاہوں آج کے بعد وہ میری طرف سے مکمل طور پر آزاد ہے"لیکن بیوی کو دکھایا نہیں اور نہ اس کو اس کے متعلق معلوم ہوا ، اور اس شخص  نےوہ کاغذ پھاڑ کر دوبارہ  اپنی بیوی کے ساتھ ازدواجی زندگی گزارنا شروع کردیا، تو کیااس  طلاق نامہ سے طلاق واقع ہوئی ہے یانہیں؟

جواب

         واضح رہے کہ جس طرح زبانی تلفظ سے طلاق واقع ہوتی ہےاسی طرح تحریر کے ذریعے بھی طلاق واقع ہوتی ہے،چنانچہ اگر کوئی شخص بغیر کسی جبر واکراہ کے کسی کاغذ وغیرہ  پر طلاق کی نیت سے طلاق تحریر کرے تو اس سے طلاق واقع ہو جائے گی ، نیز وقوع طلاق کےلیے طلاق دیتے وقت بیوی کا موجود ہونا یا اس کو طلاق کا علم ہونا بھی ضروری نہیں ،اور کاغذ کے پھاڑنے سے طلاق کے وقوع پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔

         صورت مسئولہ کے مطابق جب مذکورہ شخص نے طلاق کی نیت سے کاغذ پر یہ الفاظ لکھےہیں کہ"میں اپنی بیوی کو تین طلاق دیتاہوں ،آج کے بعد وہ میری طرف سے مکمل طور پر آزاد ہے" تواس کی بیوی پرتین طلاقیں واقع ہو چکی ہیں ، اور وہ مطلقہ مغلظہ بن کر شوہر پر حرام ہو چکی ہے، اگرچہ بیوی کو اس تحریر کے متعلق کوئی علم نہ ہو۔ طلاق لکھنے کے بعدکاغذ پھاڑنے سے طلاق کے وقوع پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔لہذا ان پر لازم ہے کہ فوراً ایک دوسرے سے الگ ہوجائیں۔

 

وإن كانت مستبينة لكنها غير مرسومة إن نوى الطلاق يقع وإلا فلا وإن كانت مرسومة يقع الطلاق نوى أو لم ينو ثم المرسومة لا تخلو أما إن أرسل الطلاق بأن كتب أما بعد فأنت طالق فكلما كتب هذا يقع الطلاق وتلزمها العدة من وقت الكتابة۔(الفتاوٰی الھندیۃ، کتاب الطلاق، الفصل السادس فی الطلاق بالکتابۃ، ج:1، ص:446 )

فروع كتب الطلاق إن مستبينا على نحو لوح وقع إن نوى وقيل مطلقا۔ قال ابن عابدین:وإن كانت مرسومة يقع الطلاق نوى أو لم ينو  ثم المرسومة لا تخلو أما إن أرسل الطلاق بأن كتب أما بعد فأنت طالق فكما كتب هذا يقع الطلاق وتلزمها العدة من وقت الكتابة۔(ردالمحتار، کتاب الطلاق، مطلب فی الطلاق بالکتابۃ، ج:4، ص:455)


فتویٰ نمبر : 6300/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں