بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

لیبارٹری والوں سے کمیشن لینا


سوال

بسا اوقات میڈیسن والوں کے پاس کوئی شخص آکر کسی لیبارٹری کا پتہ پوچھتا ہے یا وہ شخص میڈیسن والوں کا اپنا گاہک ہوتا ہےلیکن کسی لیبارٹری میں کوئی ٹیسٹ وغیرہ کرانا چاہتا ہے تو  میڈیسن والے اس کو اس بات پر آمادہ کرتے ہیں کہ اس کا خون وغیرہ خود لیکر ان کے ساتھ لیبارٹری  چلے جاتے ہیں اور پھر یہ میڈیسن والا دوکاندار اس کے عوض لیبارٹری والے سے کمیشن لیتا ہے کیا اس طرح کرنا شرعا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

            واضح رہے کہ جب کوئی  شخص دوکاندار کے لیے کوئی گاہک مہیا کرتا ہے تو اس میں اس شخص کی حیثیت دلال کی سی ہےاور دلال کی اجرت کو فقہا ئے کرام نے جائز قرار دیا ہے۔

            صورت مسٔولہ میں  اگر کوئی میڈیسن والا دوکاندار کسی مريض  کی رضامندی کے ساتھ اس کا خون لیکر اس کو کسی لیبارٹری والے  کے پاس  لے جاتا ہے تو اس صورت میں  چونکہ یہ  دلال ہے اس لیے  اس کا کمیشن لینا جائز ہے بشرطیکہ کمیشن پہلے سے  متعین ہو اور  وہ  مریض کو کسی ایسی با اعتماد لیباٹری والے کے پاس لے جاتا ہو جہاں نہ اس  ٹیسٹ  میں کوتاہی کی جاتی  ہو اور نہ ہی وہ لیبارٹری والے مروجہ قیمت سے زیادہ پیسے وصول  کرتے ہوں۔

 

وفي الحاوي: سئل محمد بن سلمة عن أجرة السمسار، فقال: أرجو أنه لا بأس به وإن كان في الأصل فاسدا لكثرة التعامل وكثير من هذا غير جائز، فجوزوه لحاجة الناس إليه. ( رد المحتار على الدر المختار، باب ضمان الأجير، ج:9ص:87 )


فتویٰ نمبر : 4785/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں