بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 24/10/2026 |
دارالافتاء
سودی بينك كے سيونگ اكاونٹ ميں پيسےرکھ کر اس پر سود وصول کرنا
سوال
ایک عورت کے شوہر کا انتقال ہوا جس سے اس کی تین بیٹیاں ہیں، تینوں بیٹیاں بالغ ہیں، گھر میں اور کوئی شخص کمانے والا نہیں ہے، مرحوم کے بینک اکاونٹ میں تقریباً ایک کروڑ تک کی رقم موجود ہے ،اب اگر یہ عورت اس رقم کو نکال کر اپنے او ر بیٹیوں پر خرچ کرے گی تو بالآخر یہ رقم ختم ہوکرلوگوں سے بھیک مانگنے پر مجبور ہوجائیں گے ، تو کیا ایسی صورت میں اس عورت کے لیے یہ جائز ہے کہ اس رقم کو سودی بینک کے سیونگ اکاونٹ ہی میں چھوڑ دے تاکہ اس سے نفع بھی ملتا رہے اور اصل رقم بھی اپنی حالت پر برقرار ہو۔
جواب
واضح رہے کہ سود کی حرمت نصوصِ قطعیہ سے ثابت ہے۔قرآن وحدیث میں سودی معاملہ کرنے والوں کے متعلق سخت وعیدیں مذکور ہیں، ارشادِ باری تعالی ہے :﴿ وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا﴾ البقرة:275 (اللہ تعالی نے خرید و فروخت کو حلال اور سود کو حرام قرار دیا ہے )سود لینا اور دینا دونوں غضبِ خداوندی کو دعوت دینے کے مترادف ہے، قرآن مجید میں صراحت کے ساتھ اللہ جل شانہ نے سودی معاملات سے باز نہ آنے والوں کے ساتھ اعلانِ جنگ فرمایا ہے ، ارشادِ باری تعالی ہے:﴿فَإِنْ لَمْ تَفْعَلُوا فَأْذَنُوا بِحَرْبٍ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ﴾البقرة:279(پھر بھی اگر تم ایسا نہ کروگے تو اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے اعلانِ جنگ سن لو )۔نبی کریم ﷺ نے سود کھانے والے ،کھلانے والے لکھنے والے، اور اس کے گواہ بننے والے سب پر لعنت فرمائی ہے اور ان سب کو برابر قرار دیا ہے ۔
لہذا صورتِ مسئولہ کے مطابق عورت کے لیے اس رقم کو سودی بینک کے سیونگ اکاونٹ میں چھوڑنا جائز نہیں، کیونکہ علمائے کرامؒ کی تحقیقات کے مطابق روایتی بینکوں کے سیونگ اکانٹ سے ملنے والے منافع بھی دراصل سود ہی ہے، لہذا اس رقم کو سودی بینک کے سیونگ اکاونٹ میں رکھ کر اس پر سود وصول کرنا جائز نہیں ۔البتہ سرمایہ کو محفوظ رکھ کر اس سے آمدن حاصل کرنے کی یہ صورت جائز ہےکہ ورثا باہمی رضامندی سے کسی معتمد اور امانت دار شخص کو بطورِ مضاربت سرمایہ دیں جو حلال تجارت میں ان کا سرمایہ لگائےاور اس کے منافع ان کو ملتے رہیں، تاہم اگر اس طرح کوئی معتمد شخص دسترس میں نہ ہو تو پھر اس رقم کو کسی معتمد اسلامی بینک مثلاً میزان بینک کے سیونگ اکاونٹ میں رکھا جاسکتا ہے۔
قال الله تعالى:﴿يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَذَرُوا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبَا إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ﴾(البقرة/278)
عن جابر، قال: «لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم آكل الربا، ومؤكله، وكاتبه، وشاهديه»، وقال: «هم سواء»۔(الصحيح لمسلم ، كتاب البيوع ، باب لعن آكل الربوا ج: 2 ص: 27)
لو مات رجل وكسبه من ثمن الباذق والظلم أو أخذ الرشوة تعود الورثة ولا يأخذون منه شيئا وهو الأولى لهم ويردونه على أربابه إن عرفوهم، وإلا يتصدقوا به؛ لأن سبيل الكسب الخبيث التصدق إذا تعذر الرد۔(البحرالرائق ، كتاب الكراهية ، فصل في البيع ، ج: 8 ص: 369)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 329
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 246
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 894
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 455
- کتاب الصوم | فتاوئ : 91
- کتاب الحج | فتاوئ : 112
- کتاب النکاح | فتاوئ : 576
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 494
- خلع | فتاوئ : 50
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 7
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 60
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 88
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 477
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 102
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 78
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 82
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 22
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 177
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 413
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 22
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 32
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 8
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 199
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 154
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 63
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 43
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 324
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1193
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 34
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 388
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں