بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 23/10/2026

دارالافتاء

 

قبرستان میں پلر گاڑھ کرمسجد بنانا


سوال

قبرستان کے اوپر مسجد بنانے کا شرعی حکم کیا ہےیعنی اوپر  مسجد ہو اور نیچے قبرستان ۔

جواب

            واضح رہے کہ جب زمین کسی خاص مصرف میں استعمال کیلئے وقف کی جائے اور وقف تام بھی ہو جائے مثلا قبرستان کیلئے وقف کی ہوئی زمین میں کوئی میت دفنایا جائے تو اس سے وقف تام ہو جاتاہے شرعی نقطہ نظر سے اس موقوفہ زمین کو اس وقت تک دوسرے مصارف میں استعمال نہیں کیا جا سکتا جب تک اس کو متعلقہ وقف یا مصالح وقف میں استعمال کرنا ممکن ہو ۔

              صورت مسئولہ میں اگر زمین واقعی قبرستان کےلیے وقف کی گئی ہو اور  اس میں مردے بھی دفنا ئے گئے ہوں نیز اب بھی وہ زائد از ضرورت نہ ہو تو ایسی موقوفہ زمین کی سطح پرقبروں کو ہموار کرکےمسجد کی تعمیر جائز نہیں، البتہ پلر گاڑھ کر اس کے اوپر چھت ڈالنے کے بعدمسجد بنانے کی گنجائش ہے،  تاہم ضروری ہے کہ اس سے قبریں متاثر نہ ہوں۔نیز نااتفاقی وفساد سے بچنے کے لیے مسجد کی تعمیر میں اس بات کا خیال رکھا جائے کہ یہ تعمیر قبرستان کے متولی، علاقے کے مشران اور جن  لوگوں کے عزیز و اقارب کی قبریں اس احاطہ میں آ رہی ہوں،ان کے صلاح ومشورہ کے بغیر ایسا اقدام نہ کیا جائے۔

 

عند محمد اذا استسقی الناس من السقاية ،وسکنواالخان والرباط،ودفنوا فی المقبرة زال الملک۔(تبيين الحقائق،کتاب الوقف ،فصل من بنی مسجدا، ج:4، ص:274،)

فان شرائط الواقف معتبرۃ اذا لم تخالف الشرع ،و هو مالک فله ان يجعل ماله حيث شاء مالم يكن معصية۔(رد المحتار علی الدر المختار،کتاب الوقف ،مطلب شرائط الواقف معتبرة، ج:6، ص:527)

وَلَوْ بَلي الْمَيِّتُ وَصَارَ تُرَابًا جَازَ دَفْنُ غَيْرِهِ في قَبْرِهِ وَزَرْعُهُ وَالْبِنَاءُ عليه۔(الفتاوي الهندية ، كتاب الصلوة، ج:1، ص:167)

"فَإِن قلت: هَل يجوز أَن تبنى على قُبُور الْمُسلمين؟ قلت: قَالَ ابْن الْقَاسِم: لَو أَن مَقْبرَة من مَقَابِر الْمُسلمين عفت فَبنى قوم عَلَيْهَا مَسْجِدا لم أر بذلك بَأْسا، وَذَلِكَ لِأَن الْمَقَابِر وقف من أوقاف الْمُسلمين لدفن موتاهم لَا يجوز لأحد أَن يملكهَا، فَإِذا درست وَاسْتغْنى عَن الدّفن فِيهَا جَازَ صرفهَا إِلَى الْمَسْجِد، لِأَن الْمَسْجِد أَيْضا وقف من أوقاف الْمُسلمين لَا يجوز تملكه لأحد، فمعناهما على هَذَا وَاحِد."(عمدۃالقاری شرح صحیح البخاری، كتاب الصلاة، باب هل تنبش قبور مشركي الجاهلية ويتخذ مكانها مساجد، ج:4، ص:179)

رجل وقف ضيعته علي جهة معلومة، او علي قوم معلومين ،ثم ان الواقف غرس شجرا قالو:ان غرس من غلة الوقف او من مال نفسه ،لكن ذكر انه غرس للوقف ،يكون للوقف وان لم يذكرشيا وقد غرس من مال نفسه يكون له وورثته بعده ،ولا يكون وقفا ۔(الفتاوي الهندية،كتاب الوقف،الباب الحادي العشر في المسجد، ج:2، ص:418)


فتویٰ نمبر : 4791/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں