بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 23/08/2026

دارالافتاء

 

مسجد میں تزئین و آرائش اوررنگ وروغن کرنا


سوال

مسجد کے رنگوں اور ڈیکوریشن کی شرعی حدود وقیود کیا ہیں؟

جواب

موجودہ دور میں مسجد کی تزئین و آرائش مسجد کی تعمیر کا حصہ شمار کیا جاتا ہے،اور مسجدکے لیے جو لوگ چندہ دیتے ہیں ان کو بھی معلوم ہوتا ہےکہ چندہ  ان مصارف میں خرچ کیا جاتا ہے۔اس لیے اگر چندہ دھندگان کے علم میں یہ بات ہوکہ ہماری رقم ان جگہوں  میں خرچ ہورہی ہے یا مخصوص کام کے لیے چندہ اکٹھا کیا گیا ہوتو پھر رقم کا استعمال  اس میں جائز ہے۔تاہم فقہاء کرام کی آراء کی روشنی میں اس بات کا لحاظ ضروری ہے کہ آرائش وزیبائش اس طور پرنہ ہو کہ جس سے عبادت میں خلل واقع ہوجائے،اور یا بتلائے بغیرلوگوں کی رقم ان کی مرضی کے خلاف استعمال کی جائے۔ایسی صورت میں بہتر یہ ہے کہ اپنے ذاتی مال سے  یا آرائش  ہی کے نام سےکیے  گئے چندےسے تزئین کا کام کیا جائے۔

 

"(ولا بأس بنقشه خلا محرابه) فإنه يكره لأنه يلهي المصلي. ويكره التكلف بدقائق النقوش ونحوها خصوصا في جدار القبلة قاله الحلبي. وفي حظر المجتبى: وقيل يكره في المحراب دون السقف والمؤخر انتهى. وظاهره أن المراد بالمحراب جدار القبلة فليحفظ (بجص وماء ذهب) لو (بماله) الحلال (لا من مال الوقف) فإنه حرام (وضمن متوليه لو فعل) النقش أو البياض إلا إذا خيف طمع الظلمة فلا بأس به كافي، وإلا إذا كان لإحكام البناء أو الواقف فعل مثله لقولهم: إنه يعمر الوقف كما كان، وتمامه في البحر. (ردالمحتار على الدرالمختار ، کتاب الفرائض، ج:2، ص:436)


فتویٰ نمبر : 4796/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں