بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 24/10/2026 |
دارالافتاء
کسی کےجانور کا دوسرے کے کھیت سے فصل کھانا
سوال
1- اگر جانور کو گھر سے نکال کر چھوڑ دیا جائے اور وہ کسی کے کھیت سے فصل یا درخت کھائے تو اس کا ضمان لازم ہوگا یا نہیں؟2-اگر جانور گھر میں باندھا ہواہو اور وہ رسی توڑ کر باہر نکلے اور کسی کے کھیت سے فصل اور درخت کھائے تو کیا مالک پر اس کا ضمان لازم ہوگا یا نہیں؟3- اگر جانور کھیتوں میں باندھا ہوا ہو اوراور رسی توڑ کر کسی کا فصل کھائے تو ضمان لازم ہوگا یا نہیں؟4-اگر ضمان لازم ہوتا ہے تو ہم اس ضمان کا ازالہ کس طرح کریں کہ کھیت کے مالک کو معلوم بھی نہ ہوجائے کہ ہمارے جانور نے اس کے کھیت سے کچھ کھایا ہے اور نقصان کا ازالہ بھی ہوجائے، کیونکہ اگراس کو بتاتے ہیں تو وہ ناراض ہوتا ہے؟
جواب
جب کوئی جانور کسی کے کھیت کو نقصان پہنچائے یا اس سے فصل کھائےتوـ ـ ـ 1-اگر جانور باڑ سے نکل کر کسی کا نقصان کرے یا کہیں دوسری جگہ بندھا ہوا ہو اور وہ رسی توڑکر کسی کا نقصان کرےتو مالک پر اس نقصان کا ضمان لازم نہ ہوگا، چاہے یہ نقصان دن کے وقت کیا ہو یا رات کے وقت کیا ہو۔
2-اگر کوئی اس کو کھول کر باہر چھوڑ دےتو اگر ہنکانے والا اس جانور کے ساتھ موجود ہو تو وہ اس کےنقصان کا ضامن ہوگا ۔
3-اگر کوئی ہنکانے والا اس کے ساتھ نہ ہو بلکہ جانور کو کسی راستے یا کھیت کی طرف چھوڑ دیاگیا ہوتواس کی دو صورتیں ہیں:
پہلی صورت یہ ہے کہ جانور کو چھوڑ نے کے فوراً بعد وہ جانورکسی کے کھیت میں چلا گیا اور اس کا نقصان کیا تو جانور کو چھوڑنے والا اس نقصان کا ضامن ہوگا ،یعنی جب چھوڑنے کے بعدوہ جانور نہ کہیں رکا ہو اور نہ ہی دائیں بائیں جانب مڑا ہو، بلکہ اسی طرف گیا ہو جس طرف اس کو چھوڑا گیا ہو تو چھوڑنےوالا نقصان کا ضامن ہوگا، کیونکہ اس صورت میں جانور کا یہ چلنا اس چھوڑنے والے کی طرف منسوب ہوگا۔
دوسری صورت یہ ہے کہ جانور راستے میں رک کر پھر روانہ ہو یا جس جانب اس کو چھوڑا ہو اس سے دائیں یا بائیں جانب مڑ کر اس کے بعد کسی کا نقصان کرے تو اس کا ضمان چھوڑنے والے پر لازم نہ ہوگا۔
3,2,1 صورت مسئولہ کے پہلے ، دوسرے اور تیسرے جز کا جواب تمہید سے واضح ہے۔
4- جن صورتوں میں نقصان کا ضمان لازم ہوتا ہے تو نقصان کی قیمت مالک کو دینا ضروری ہے، البتہ صرف اس کو اس کا حق پہنچانا شرعا لازم ہے اس کو اس سے باخبر کرنا ضروری نہیں ، لہذا اگر تحفہ وغیرہ کے نام سے نقصان کی قیمت دی جائے مگر اس کی نیت ضمان ادا کرنا اور حق پہنچانا ہو تو اس سے بھی ذمہ فارغ ہوگا۔
قال ولو أرسل بهيمة فأفسدت زرعا على فوره ضمن المرسل وإن مالت يمينا أو شمالا وله طريق آخر لا يضمن لما مر ولو انفلتت الدابة فأصابت مالا أو آدميا ليلا أو نهارا لا ضمان على صاحبها لقوله عليه الصلاة والسلام جرح العجماء جبار۔(الهداية، كتاب الديات، باب جناية البهيمة والجناية عليها، ج:8، ص، 153 )
إذا أرسل دابة في طريق المسلمين فما أصابت في فورها فالمرسل ضمن؛ لأن سيرها مضاف إليه ما دامت تسير على سننهاولو انعطفت عنه يمنة أو يسرة انقطع حكم الإرسال إلا إذا لم يكن له طريق آخر سواه وكذا إذا وقفت ثم سارت أي ينقطع حكم الإرسال بالوقفة أيضا كما ينقطع بالعطفة۔(البحر الرائق، كتاب الديات، باب جناية البهيمة والجناية عليها، ج:9، ص:138)
رجل أرسل حماره فدخل زرع إنسان وأفسده إن أرسله وساقه إلى الزرع بأن كان خلفه كان ضامنا وإن لم يكن خلفه إلا أن الحمار ذهب في فوره ولم يعطف يمينا وشمالا وذهب إلى الوجه الذي أرسله فأصاب الزرع كان ضامنا وإن ذهب يمينا وشمالا ثم أصاب الزرع فإن لم يكن الطريق واحدا لا يكون ضامنا وإن كان الطريق واحدا كان ضامنا وإن أرسله فوقف ساعة ثم ذهب إلى الزرع وأفسد لا يضمن المرسل كذا في فتاوى قاضي خان وحكي عن الشيخ الإمام أبي بكر محمد بن الفضل البخاري رحمه الله تعالى فيمن أرسل بقره من القرية إلى أرضه فدخل في زرع غيره فأكل إن كان له طريق غير ذلك لا يضمن وإن لم يكن له طريق غير ذلك يضمن فأما إذا خرجت الدابة من المربط وأفسدت زرع إنسان أو تركها في المرعى فأفسدت زرع إنسان فلا ضمان۔(الفتاوى الهندية، كتاب الجنايات، الباب الثاني في جناية البهائم والجناية عليها، ج:6،ص:63 )
والأصل أن المستحق بجهة إذا وصل إلى المستحق بجهة أخرى اعتبر واصلا بجهة مستحقة إن وصل إليه من المستحق عليه۔(الدر المختار على صدر ردالمحتار، كتاب البيوع، باب البيع الفاسد، ج:7،ص:292)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 329
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 246
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 894
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 455
- کتاب الصوم | فتاوئ : 91
- کتاب الحج | فتاوئ : 112
- کتاب النکاح | فتاوئ : 576
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 494
- خلع | فتاوئ : 50
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 7
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 60
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 88
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 477
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 102
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 78
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 82
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 22
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 177
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 413
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 22
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 32
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 8
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 199
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 154
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 63
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 43
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 324
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1193
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 34
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 388
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں