بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 26/08/2026

دارالافتاء

 

متعین تاریخ تک قسطیں ادا نہ کرنےپربائع کا اپنے لیے بیع فسخ کرنے کی شرط لگانا


سوال

1-اگر فروخت میں مبیع کی قیمت قسطوار طے ہو اور بائع مشتری کے ساتھ  یہ شرط لگائے کہ اگر فلاں تاریخ تک آپ نے تمام قسطیں ادا نہیں کی تو مجھے بیع کے فسخ کرنے کا اختیار حاصل ہوگا۔2-اسی طرح اگر زمین کی فروخت  میں بائع مشتری کے ساتھ یہ شرط لگائے کہ جب تک آپ مکمل قسطیں  ادا نہ کرےاس وقت تک فروخت شدہ زمین پر قبضہ بائع کا ہوگا، نیز کاغذی انتقالات بھی بائع کے نام ہی ہوں گے۔کیا خرید وفروخت میں ایسے شرائط لگانا شرعا جائز ہے یا نہیں؟ نیز اس سے بیع فاسد ہوتی ہے یا نہیں؟

جواب

                واضح رہے کہ بیع تام ہونے کے بعد بائع اور مشتری میں سے کسی کو دوسرے کی رضامندی کی  بغیر بیع فسخ کرنے کا اختیار حاصل نہیں ہوتا۔ پھر اگر قیمت نقد ادا کرنا طے ہوا ہو تو بائع کو  قیمت کی وصولی تک  مبیع اپنے پاس  روکنے کا حق حاصل ہوتا ہے، لیکن اگر قیمت کی ادائیگی قسطوار طے ہو تو بائع کو نہ مدت کے پورا ہونے سے پہلے مبیع روکنے کا حق حاصل  ہوتا ہے اور نہ ہی مدت ختم ہونے کے بعد۔ نیز عقد کے تقاضے کے خلاف جب کوئی ایسی  شرط لگائی جائے جس میں بائع یا مشتری اور یا مبیع کا فائدہ ہو اگر مبیع اہلِ استحقاق میں سے ہو تو اس سے بیع فاسد ہوجاتی ہے۔

                لہذا صورتِ مسئولہ کے مطابق 1- اگر  مبیع کی قیمت قسطوار طے ہو توبائع  کے لیے یہ شرط لگانا جائز نہیں کہ  اگر مشتری نے فلاں تاریخ  تک  تمام قسطیں ادا نہیں  کیں تو بائع کو بیع فسخ کرنے کا اختیار حاصل ہوگا۔

2- زمین کے فروخت میں تمام قسطیں ادا نہ کرنےتک بائع کا اپنے لیے قبضہ کی شرط  لگانا جائز نہیں ۔تاہم اگر بائع زمین کے حدود  اربعہ مقرر کرکے مشتری کو اس میں ہر قسم کے تصرف کا اختیار اور قبضہ  دے دے اور اس کے بعد مشتری سے  بطورِ رہن لے لے تو یہ جائز ہوگا۔ نیز تمام قسطوں کی ادائیگی تک کاغذی انتقالات بائع کے نام پر ہونے کی شرط لگانے کی گنجائش ہے،البتہ کوئی ایسی دستاویز ضرور لکھی جائے جس میں یہ تحریر ہو کہ مشتری کی ملکیت ثابت ہو چکی ہے، لیکن صرف انتقالات بائع کے نام پر ہیں جن کو قسطوں کی ادائیگی کے بعد مشتری کے نام پر کر دیے جائیں گے۔

 

وكل شرط لا يقتضيه العقد وفيه منفعة لأحد المتعاقدين أو للمعقود عليه وهو من أهل الاستحقاق يفسده۔(الهداية، کتاب البيوع، باب البيع الفاسد،5/166)

إذا كان البيع لازما ; فليس لأحد المتبايعين الرجوع عنه . أي ليس لأحد المتبايعين أو ورثته في البيع النافذ اللازم أن يرجع عنه بدون رضاء الآخر بوجه من الوجوه۔(دررالحكام شرح مجلة الأحكام، بيان أحكام أنواع البيع، ج:1، ص:401)

قال أصحابنا رحمهم الله تعالى للبائع حق حبس المبيع لاستيفاء الثمن إذا كان حالا كذا في المحيط وإن كان مؤجلا فليس للبائع أن يحبس المبيع قبل حلول الأجل ولا بعده كذا في المبسوط۔(الفتاوى الهندية، كتاب البيوع، الباب الرابع في حبس المبيع بالثمن وقبضه بإذن البائع وغير إذنه، الفصل الأول في حبس المبيع بالثمن، ج:3،ص:18)

ومن اشترى ثوبا بدراهم فقال للبائع أمسك هذا الثوب حتى أعطيك الثمن فالثوب رهن۔(الهداية، كتاب الرهن، باب ما يجوز ارتهانه والارتهان به، ومالايجوز، ج:7، ص:386)

لأن الثوب مما اشتراه وقبضه كان هو و سائر الأعيان المملوكة سواء صحة الرهن۔(الكفاية، كتاب الرهن، باب ما يجوز ارتهانه والارتهان به، ومالايجوز، ج:9، ص:99)

و (لو كان) ذلك الشيء الذي قال له المشتري أمسكه هو (المبيع) الذي اشتراه بعينه لو (بعد قبضه) لأنه حينئذ يصلح أن يكون رهنا بثمنه (ولو قبله لا) يكون رهنا لأنه محبوس بالثمن۔ قال ابن عابدين: قوله(لأنه حينئذ يصلح إلخ) أي لتعين ملكه فيه؛ حتى لو هلك يهلك على المشتري ولا ينفسخ العقد(قوله لأنه محبوس بالثمن) أي وضمانه يخالف ضمان الرهن فلا يكون مضمونا بضمانين مختلفين لاستحالة اجتماعهما، حتى لو قال أمسك المبيع حتى أعطيك الثمن قبل القبض فهلك انفسخ البيع زيلعي۔(ردالمحتار، كتاب الرهن باب ما يجوز ارتهانه ومالايجوز، ج:10، ص:110-111)

لايجوز اشتراط عدم انتقال ملكية السلعة إلى العميل إلا بعد سداد  الثمن، ولكن يجوز إرجاء تسجيل السلعة باسم العميل المشتري لغرض ضمان سداد الثمن مع الحصول على تفويض من العميل للمؤسسة ببيع السلعة إذا تأخر عن سداد الثمن۔(المعايير الشرعية، المعيار الشرعي رقم:8، المرابحة، ص:215)


فتویٰ نمبر : 2886/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں