بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 20/10/2026

دارالافتاء

 

بیماری سے صحت یابی پر مفت سبق پڑھانے کی نذر ماننا


سوال

ایک شخص نے بیماری کے ایام میں کہا کہ "جب میں صحت یاب ہو جاؤں گا ، تو مفت سبق پڑھاؤں گا" یعنی تنخواہ نہیں لوں گا، تو کیا یہ نذر صحیح ہے ؟ 

جواب

            واضح رہے کہ نذر کے لئے ضروری ہے کہ جس بات کی نذر مانی جائے وہ عبادت مقصودہ ہو، اور اس کی جنس سے شریعت میں کوئی فرض یا  واجب موجود ہو۔

          صورت مسئولہ کے مطابق مفت سبق پڑھانے کی جو نذر مانی گئی ہے ، اگر یہ کوئی  دنیاوی  سبق پڑھانا ہو ، تو چونکہ یہ عبادت مقصودہ نہیں ہے اس لئے یہ نذر درست نہیں۔ البتہ اگر کوئی دینی سبق پڑھانا ہو تو یہ اگر چہ عبادت مقصودہ ہے، لیکن اس کی جنس سے  کوئی فرض یا واجب  نہیں ، اس لئے یہ نذر بھی منعقد نہیں ہوگا۔

 

(ومنها) أن يكون قربة فلا يصح النذر بما ليس بقربة رأسا كالنذر بالمعاصي ۔ ۔ ۔ (ومنها) أن يكون قربة مقصودة، فلا يصح النذر بعيادة المرضى وتشييع الجنائز ۔ ۔ ۔ ومن مشايخنا من أصل في هذا أصلا فقال: ما له أصل في الفروض يصح النذر به ولا شك أن ما سوى الاعتكاف من الصلاة والصوم وغيرهما له أصل في الفروض، والاعتكاف له أصل أيضا في الفروض وهو الوقوف بعرفة، وما لا أصل له في الفروض لا يصح النذر به ۔ ( بدائع الصنائع ، كتاب النذر ، فصل في شرائط ركن النذر ، ج:6 ، ص: 335 ۔ 336 )  


فتویٰ نمبر : 8909/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں