بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 15/08/2026

دارالافتاء

 

ناخنوں میں نجاست کے ہوتے ہوئے وضو اور غسل کرنا


سوال

ہم زمیندار لوگ ہیں۔کھیتوں میں بطور کھاد جو کوڑا کرکٹ ڈالتے ہیں اس  میں جانوروں کا گوبر وغیرہ بھی ہوتا ہے ۔پھر ڈالتے وقت ان میں سے کچھ کوڑا کرکٹ ہمارے ہاتھوں کو بھی لگ جاتا ہے ۔وضو کے دوران  جب ہم اپنے ہاتھوں کو صاف کرتے ہیں تو ناخنوں کے لمبے ہونے کی صورت   میں دھونے کے باوجود کچھ  گندگی  اس کے اندر  رہ جاتی ہے ۔اس گندگی سے جو پانی لگ کر بدن کے مذکورہ حصےکو پہنچ جائے تو کیا  اس صورت میں وضو اور غسل صحیح ہوتا ہے یا نہیں؟

جواب

          واضح رہے کہ ناخنوں کے اندر جو پاک میل کچیل اور مٹی  وغیرہ رہ جاتی ہے تو اس کے ہوتے ہوئے بھی وضو اور غسل صحیح ہوتا ہے،بشرطیکہ یہ پانی پہنچنے سے مانع نہ ہو،البتہ اگر  کوئی نظر آنے والی نجاست غلیظہ جیسے پاخانہ ،جانوروں کا گوبر وغیرہ ناخنوں کے اندر رہ جائے تو اس  کو دور کیے بغیر وضو اور غسل درست نہیں ہوں گے ،اس لیے کہ نجاست غلیظہ سے جو پانی لگ کر بدن کے مذکورہ حصے تک پہنچتا ہے تو وہ نجس ہو کر پہنچتا ہے اور نجس پانی کے ساتھ طہارت حاصل نہیں ہوتی ،چنانچہ اس حصہ کی طہارت حاصل نہ ہوگی۔  

          لہذا صورت مسئولہ میں جو کوڑا کرکٹ  کھیت میں بطور کھاد ڈالا جاتا ہے اگر اس میں جانوروں کا گوبر بھی ہو تو وہ چونکہ نجاست غلیظہ مرئیہ میں سے ہے اس لیے اس کو زائل کرنا ضروری ہے،چنانچہ اس نجاست کے ہوتے ہوئے وضو اور غسل درست نہیں ہوں گے،اس لیےکہ نجاست  اگر پانی پہنچنے  سے مانع نہ بھی ہو تو بھی جو پانی اس نجاست سے لگ کر مذکورہ حصے   تک پہنچتا  ہے وہ نجس ہو کر پہنچتا ہے اور نجس پانی کے ساتھ طہارت  حاصل نہیں ہوتی۔ تاہم اگر کوڑا کرکٹ کا ڈھیر اتنا پرانا ہو چکا ہو کہ گوبر وغیرہ اس میں مٹی میں تبدیل ہو گئے ہوں تو پھرناخنوں میں اس کی موجودگی میں بھی وضو اور  غسل صحیح ہوں گے ،بشرطیکہ پانی پہنچنے سے مانع نہ ہو ،اس لیے کہ ماہیت بدلنے سے حکم میں  بھی تبدیلی آجاتی ہے۔

 

وفي الجامع الأصغر: إن كان وافر الأظفار وفيها درن أو طين أو عجين أو المرأة تضع الحناء جاز في القروي والمدني. قال الدبوسي: هذا صحيح وعليه الفتوى. وقال الإسكاف: يجب إيصال الماء إلى ما تحته إلا الدرن لتولده منه. وقال الصفار فيه: يجب الإيصال إلى ما تحته إن طال الظفر۔(فتح القدیر،کتاب الطہارۃ،ج:2،ص:13)

لأن الماء متى لاقى النجاسة تنجس، سواء ورد الماء على النجاسة، أو وردت النجاسة على الماء، والتطهير بالنجس لا يتحقق۔(بدائع الصنائع،کتاب الطہارۃ،فصل فیِ طریق التطھیر بالغسل،ج:1،ص:448)

(قوله: والنجس المرئي يطهر بزوال عينه إلا ما يشق) أي يطهر محله بزوال عينه؛ لأن تنجس المحل باعتبار العين فيزول بزوالها۔(البحرالرائق،کتاب الطہارۃ،باب الأنجاس،ج:1،ص:409)

وعبارة المجتبى: جعل الدهن النجس في صابون يفتى بطهارته؛ لأنه تغير والتغير يطهر عند محمد ويفتى به للبلوى.(ردالمحتار علی الدرالمختار،کتاب الطہارۃ،باب الأنجاس ج:1،ص:519 )


فتویٰ نمبر : 8910/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں