بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 22/08/2026

دارالافتاء

 

میراث میں اپنا حصہ کسی کو دینا


سوال

اگر کوئی بہن تقسیم سے پہلے اپنے بھائی کو اپنا حصہ دے دے اور کاغذات پر  دستخط بھی کرے تو شرعاً کیا بھائی اس کامالک بن جائے گا؟اور کیا بہن بعد میں اپنے حصے کا مطالبہ کرسکتی ہے؟

جواب

          واضح رہے کہ حقِ وراثت اضطراری حق ہے جو ساقط کرنے سے ساقط نہیں ہوتا، چنانچہ تقسیم سے پہلے کوئی وارث نہ تو اپنا حصہ چھوڑ سکتا ہے اور نہ ہی اپنا حصہ کسی کو دے سکتا ہے ۔البتہ جب ورثا کے مابین میراث تقسیم کردیا جائے اور تقسیم کرلینے کے بعد ورثا اپنے اپنے حصے پر قبضہ کرلیں تو پھر اگر کوئی وارث اپنا حصہ کسی کو دینا چاہے تو دے سکتا ہے۔

          لہذا صورتِ مسئولہ کے مطابق تقسیم سے پہلے بہن  کا اپنا حصہ بھائی کو دینا معتبرنہیں چنانچہ اس کے حصے پر بھائی کی ملکیت ثابت نہ ہوگی،  لہذا بعد میں پھر مطالبہ کرسکتی ہے۔

 

لَا يجوزالابراء عَن الاعيان، وَيجوز عَن دَعْوَاهَا۔الإرث جبري لايسقط بالإسقاط۔(تكملة ردالمحتار ، كتاب الدعوي ، باب التحالف ، ج: 11 ص: 678)

اعْلَمْ أَنَّ الْإِعْرَاضَ عَنْ الْمِلْكِ أَوْ حَقِّ الْمِلْكِ ضَابِطُهُ أَنَّهُ إنْ كَانَ مِلْكًا لَازِمًا لَمْ يَبْطُلْ بِذَلِكَ كَمَا لَوْ مَاتَ عَنْ ابْنَيْنِ فَقَالَ أَحَدُهُمَا: تَرَكْت نَصِيبِي مِنْ الْمِيرَاثِ لَمْ يَبْطُلْ لِأَنَّهُ لَازِمٌ لَا يُتْرَكُ بِالتَّرْكِ۔(غمز عيون البصائر شرح الأشباه النظائر ، الفن الثالث: الجمع والفرق ، باب ما يقبل الإسقاط من الحقوق ، ج: 3 ص: 53)


فتویٰ نمبر : 3101/297/323

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں