بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 23/10/2026

دارالافتاء

 

مسلمان کی عزت کاخیال نہ رکھنے سے متعلق حدیث


سوال

ایک حديث ہے کہ جو شخص کسی مسلمان کی مدد سے ایسے وقت پہلوتہی کرے جب کہ اس کی آبرو گرائی جا رہی ہو، اس کا اِحترام توڑا جا رہا ہو، تو حق تعالیٰ شا نہٗ اس شخص کی مدد کرنے سے ایسے وقت میں بے اِلتفاتی فرماتے ہیں جب کہ یہ کسی مدد کرنے والے کی مدد کا خواہش مند ہو اس حدیث کا اصل ماخذ کیاہے یہ حدیث کہاں موجود ہے؟ 

جواب

            سوال میں جس حدیث کا مفہو م ذکر کیا گیا ہے، یہ حدیث امام ابو داؤد ؒ نے اپنی کتاب " سنن ابی داؤد " کے " کتاب الأدب "میں ذکر کی ہے۔  جس کا ترجمہ یہ ہے: " جو شخص کسی مسلمان کو ایسی جگہ رسوا کرے کہ جہاں اس کی عزت کو نشانہ بنایا جا رہا ہو، یا اس کی عزت کم ہو،  تو اللہ تعالی اس شخص کو ایسے مقام پر رسوا کرے گا، جہاں پر وہ اس کی امداد چاہے گا، اور جو شخص کسی مسلمان کی مدد کرے ایسی جگہ جہاں اس کی عزت کم ہوتی ہو، یا عزت جاتی رہے تو اللہ تعالی اس شخص کی ایسی جگہ مدد کرے گا ، کہ جہاں  وہ اس کی مدد چاہے گا(یعنی قیامت کے دن ) ۔

 

حدثنا إسحاق بن الصباح، حدثنا ابن أبي مريم، أخبرنا الليث، قال: حدثني يحيى بن سليم، أنه سمع إسماعيل بن بشير يقول: سمعت جابر بن عبد الله، وأبا طلحة بن سهل الأنصاري يقولان: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «ما من امرئ يخذل امرأ مسلما في موضع تنتهك فيه حرمته وينتقص فيه من عرضه، إلا خذله الله في موطن يحب فيه نصرته، وما من امرئ ينصر مسلما في موضع ينتقص فيه من عرضه وينتهك فيه من حرمته، إلا نصره الله في موطن يحب نصرته» قال يحيى: وحدثنيه عبيد الله بن عبد الله بن عمر، وعقبة بن شداد، قال أبو داود: " يحيى بن سليم، هذا هو ابن زيد مولى النبي صلى الله عليه وسلم، وإسماعيل بن بشير مولى بني مغالة، وقد قيل: عتبة بن شداد موضع عقبة "( سنن أبي داؤد ، كتاب الأدب ، باب الرجل يذب عن عرض أخيه ، رقم الحديث : 4833 ، ج: 2 ، ص: 327 )


فتویٰ نمبر : 4790/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں