بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

متوفی عنہاکی عدت کاحساب


سوال

ایک عورت کا شوہر فوت ہواہے ،اب وہ عدت اسلامی مہینوں کے اعتبار سے گزارے گی یا انگریزی مہینوں کے اعتبارسے ہے؟

جواب

             جب کسی عورت کا شوہر فوت ہو جائے تواگر وہ حاملہ ہو تو اس کی عدت وضع حمل ہےاور اگر حاملہ نہ ہو تواس پر چار ماہ دس دن  عدت گزارنا ضروری ہے، اس کے بعد اس کے لیے گھر سے نکلنا اور دوسری شادی کرنا جائز ہوتاہے۔ بیوہ خاتون اپنی عدت قمری مہینوں کے مطابق گزارے گی، شمسی مہینوں کے مطابق نہیں، اس لیےکہ شرعی احکام میں قمری مہینوں کا اعتبار کیا جاتا ہے۔ چنانچہ اگر کسی عورت کے شوہر کا انتقال قمری مہینے کی ابتدا یعنی پہلی تاریخ کو ہواہو،تویہ عورت چاند کے اعتبار سےاگلے چار ماہ اور اس کے بعد دس دن عدت گزارے گی ،خواہ کوئی مہینہ انتیس کا ہی کیوں نہ ہو،  اور اگر شوہر کا انتقال مہینے کے درمیان میں ہواہو تو پھر کل 130 دن عدت گزارنا لازم  ہوگا۔

 

قال اللہ تعالی﴿وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا يَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِهِنَّ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا﴾(البقرۃ:234)

وقال:﴿وَأُولَاتُ الْأَحْمَالِ أَجَلُهُنَّ أَنْ يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ﴾(الطلاق:4)

في المحيط إذا اتفق عدة الطلاق والموت في غرة الشهر اعتبرت الشهور بالأهلة وإن نقصت عن العدد وإن اتفق في وسط الشهر  فعندالإمام يعتبر بالأيام فتعتد في الطلاق بتسعين يوما وفي الوفاة بمائةوثلاثين۔ (ردالمحتار، کتاب الطلاق، ج:4، ص:434)

وإن اتفق ذلك في عدة الشهر اعتبرت الشهور بالأهلّة، وإن نقص العدد من ثلاثين يوماً، وإن اتفق ذلك في خلال الشهر فإن عند أبي حنيفة ؒوإحدى الروايتين عن أبي يوسف ؒ يعتبر مائةوثلاثون يوماً ۔ (المحیط البرھاني،كتاب الطلاق، الفصل السادس وعشرون في مسائل العدة بالحيض، ج:4، ص:28)


فتویٰ نمبر : 6299/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں