بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 23/10/2026

دارالافتاء

 

"سمع اللہ لمن حمدہ "کی بجائے "لمل حمدہ "پڑھنے والے کی امامت


سوال

 ایک امام صاحب نماز پڑھاتے وقت "سمع اللہ لمن حمدہ" کی بجائے "سمع اللہ لمل حمدہ" پڑھتا ہے، جب کہ وہ صحیح بھی پڑھ سکتا ہے لیکن کبھی کبھی  بغیر جان بوجھ کے اس طرح پڑھتا ہے، کیا اس سے نماز پر کوئی اثر پڑھتا ہے، نیز اس کے پیچھے نماز پڑھنا کیسا ہے؟

جواب

            نماز میں تمام الفاظ اور حروف کو صحیح تلفظ کے ساتھ ادا کرنا ضروری ہے، تاہم فرض اور واجب قراءت کے علاوہ تکبیرات انتقال، تسبیح، تسمیع اورتحمید وغیرہ میں اگر ایسی غلطی ہوجائےجس سے معنی میں واضح بگاڑ پیدا نہ ہو تا ہو، تو اس سے نماز کی صحت پر اثر نہیں پڑھتا، البتہ قصداً و عمداً غلط پڑھنے سے اجتناب کرنا لازم ہے۔

            صورت مسئولہ میں  اگر امام غیر ارادی طور پر "سمع اللہ لمن حمدہ" کی بجائے "سمع اللہ لمل حمدہ" پڑھتا ہو تو اس سے نماز کی صحت متاثر نہیں ہوتی ،اور اس کے پیچھے نماز پڑھنا بھی درست ہے،البتہ امام کو صحیح پڑھنے کی کوشش کرنی چاہیے ۔

 

سئل زين المشائخ البقالي عن من قال في ركوعه "سبحان ربي العظوم" قال لاتفسد، وقيل له:لو قال"سبحان ربي العذيم"؟ قال: لاتفسد. (الفتاوى التاتارخانية، كتاب الصلوة، الفصل الثاني، مسائل زلة القاري، ج:2، ص:88)


فتویٰ نمبر : 8904/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں