بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 23/08/2026

دارالافتاء

 

اصل پروڈکٹ کی بجائے کاپی فروخت کرنا


سوال

ايک شخص كاروبار میں کسی اصلی  چیز کی بجائے نقل (کاپی ) فروخت کرتا ہے ،جیسے آج کل چین کے بیشتر مصنوعات ہیں اورفروخت کنندہ خریدار کو اس سے آگاہ بھی کرتا ہےکہ یہ اصل پروڈکٹ نہیں بلکہ کاپی ہے اور اسی کےمطابق قیمت بھی کم کرتا ہے ۔کیا یہ شرعاً جائز ہے یا نہیں ؟

جواب

           واضح رہے کہ دھوکہ اور فریب زندگی کے کسی بھی شعبے میں جائز نہیں، چنانچہ اگر کوئی شخص خریدار کو فرق بتائے بغیر اس کی  مطلوبہ چیز کی بجائے کوئی کم تر اور ادنی چیز فروخت کردے تو یہ جائز نہیں ۔

           صورتِ مسئولہ میں اگر کوئی شخص اصل پروڈکٹ کی بجائے کاپی فروخت کرے اور خریدار کو اس پر مطلع بھی نہ کرے کہ یہ اصل پروڈکٹ نہیں ہے  جبکہ گاہک اس کو اصل کی نیت سے خریدے، تو یہ  شرعاً جائز نہیں ۔البتہ اگرفروخت کنندہ گاہک کو اس بات سے آگاہ کردےکہ یہ چیز کاپی ہے اصل پروڈکٹ نہیں ،اگر آپ چاہیں تو خریدلیں ورنہ چھوڑدیں،پھر اگر وہ اپنی رضامندی سے اس کو خریدے تو اس میں کوئی حرج نہیں ۔

 

عن أبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم مر على صبرة طعام فأدخل يده فيها، فنالت أصابعه بللا فقال: «ما هذا يا صاحب الطعام؟» قال أصابته السماء يا رسول الله، قال: «أفلا جعلته فوق الطعام كي يراه الناس، من غش فليس مني»۔(الصحيح لمسلم ، كتاب الإيمان ، باب قول النبي ﷺ من غش فليس منا ، ج: 1 ص: 70)

رجل أراد أن يبيع السلعة المعيبة وهو يعلم يجب أن يبينها فلو لم يبين قال بعض مشايخنا يصير فاسقا مردود الشهادة قال الصدر الشهيد لا نأخذ به كذا في الخلاصة.(الفتاوى الهندية ، كتاب البيوع ، الباب العشرون في البياعات المكروهة ، ج: 3 ص: 210)

 


فتویٰ نمبر : 2884/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں