بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 25/10/2026

دارالافتاء

 

ملازمت میں ایک جگہ سےدوسری جگہ تبدیلی کےلیےرشوت دینا


سوال

ایک شخص کی نوکری پشاورمیں ہے،اوریہاں  پراس نےگھربھی خریداہے،اوربچےبھی یہاں ہیں،لیکن اس کی اہلیہ کی نوکری اپنےآبائی علاقےچترال میں ہے،پشاورکواس کی تبدیلی افسرانِ بالارشوت لینےکےبغیرنہیں کرتے،تواس حالت  میں ان کورشوت دینےکاکیاحکم ہے؟

جواب

           واضح رہےکہ رشوت دےکرناجاِئزطریقےسےاپنےمقصدکوحاصل کرنایاکسی حق دارکاحق چھیننا عظیم گناہ ہے،اس لیےہرمسلمان کےلیےرشوت  دینےاورلینےسےاپنےآپ کوبچاناانتہائی ضروری ہے،لیکن اگرکوئی شخص کسی چیزکاحق دارہو،اوررشوت کےبغیراس کی وصولی ممکن نہ ہو،توفقہائے کرام کےہاں ایسی حالت میں رشوت دےکراپنےحق کووصول کرنےکی گنجائش ہے،البتہ رشوت لینےوالےکےلیےرشوت لیناہرصورت میں ناجائزاورحرام ہے۔

            صورتِ مسؤلہ کے مطابق اگرایک شخص کی نوکری پشاورمیں ہو،اوراس کی اہلیہ کی نوکری علاقےچترال میں ہو،اورچترال سےپشاورکوتبدیلی قانونااس کاحق بنتاہو،اس کےباوجودافسرانِ بالاتبدیلی کی اجازت نہیں دیتے،تواس صورت میں اس شخص کےلیےرشوت دینےکی گنجائش ہے،اوراگراس کاقانوناحق نہ بنتاہو،توپھررشوت دینااورلینادونوں حرام ہیں۔

 

لا بأس بالرشوة إذا خاف على دينه والنبي عليه الصلاة والسلام .كان يعطي الشعراء ولمن يخاف لسانه.قال ابن عابدین:دفع المال للسلطان الجائرلدفع الظّلم عن نفسه وماله ولاستخراج حق له لیس برشوۃ.(ردّ المحتارعلی الدّرالمختار،کتاب الحظروالإباحة،باب الاستبراءوغیرہ،ج9ص607)

إذادفع الرّشوۃ خوفاعلی نفسه أوماله،فھوحرام علی الاٰخذغیرحرام علی الدّافع.(شرح المجلّة لخالد الأتاسی،مادۃ:1796،ج6ص40)


فتویٰ نمبر : 4777/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں