بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 24/10/2026 |
دارالافتاء
ایک حدیث میں حضرت نوح کی امت کی تخصیص کی وجہ
سوال
عن أبي الدرداء قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم أنا أول من يؤذن له بالسجود يوم القيامة وأنا أول من يؤذن له أن يرفع رأسه فأنظر إلى بين يدي فأعرف أمتي من بين الأمم ومن خلفي مثل ذلك وعن يميني مثل ذلك وعن شمالي مثل ذلك فقال له رجل يا رسول الله كيف تعرف أمتك من بين الأمم فيما بين نوح إلى أمتك قال هم غر محجلون من أثر الوضوء ليس أحد كذلك غيرهم وأعرفهم إنهم يؤتون كتبهم بأيمانهم وأعرفهم يسعى بين أيديهم ذريتهم۔
حديث مذكور ميں نوح عليہ السلام كی امت كو كيوں خاص ذكر فرمايا حالانکہ اس سے پہلے آدم علیہ السلام اور دیگر انبیا کی امتیں بھی ہیں۔
جواب
سوال ميں مذکورحديث میں صحابہ نے نوح علیہ السلام کا تذکرہ کیا اس کی شارحين حديث نے تين تو جیہات کی ہیں:ایک یہ کہ چونکہ نوح علیہ السلام سے پہلے جتنے انبیا گزرے ہیں وہ اتنے مشہور نہیں تھے جتنے کہ نوح علیہ السلام مشہور ہیں ،دوسری یہ کہ ان کے پیروکاراور متبعین دوسروں کی بنسبت زیادہ تھے اس لیے صحابہ کرام نے نوح علیہ السلام کا تذکرہ کیا تیسری یہ کہ نوح علیہ السلام پہلے وہ نبی ہیں جس پر حلال و حرام کے متعلق احکام تفصیل سے نازل ہوئے اس سے پہلے جتنے انبیا گزرے ہیں ان پر عموما حلال وحرام کے متعلق احکام تفصیل سے نازل نہیں تھے، اس لیے صحابہ نےنوح علیہ السلام کا تذکرہ کیا ۔
وإنما خص نوحا مع أن الأنبياء كآدم وشيث وإدريس قد بعثوا قبله لشهرته أو لكثرة أمته۔(مرقاۃالمفاتیح شرح مشکاۃ المصابیح،کتاب الطھارۃ ،الفصل الثالث ،ج:2،ص:29)
وإنما خص نوحاً بالذكر، ولم يذكر آدم عليه السلام، لأن الوحي قبله كان في الأمور التكوينية، ولم يكن فيه كثير من أحكام الحلال والحرام، كما ذكره الشاه ولي الله رحمه الله في رسالته۔ (فیض الباری شرح صحیح البخاری، باب کیف کان بدء الوحي،ج:1،ص:3)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 329
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 246
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 894
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 455
- کتاب الصوم | فتاوئ : 91
- کتاب الحج | فتاوئ : 112
- کتاب النکاح | فتاوئ : 576
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 494
- خلع | فتاوئ : 50
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 7
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 60
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 88
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 477
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 102
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 78
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 82
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 22
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 177
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 413
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 22
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 32
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 8
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 199
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 154
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 63
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 43
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 324
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1193
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 34
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 388
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں